جنموں جنموں سے جو یخ بستہ پڑا تھا، وہ بدن
ایک دم پگھلا گئی تیرے چھون کی یہ تپن
.
رات بھر گرتی رہی تیرے خیالوں کی برف
رات بھر جلتا رہا تیرے دوانے کا بد ن
.
جب ستانے لگی یہ دشت کی سفاک ہوا
یاد آئی بہت اپنی گلی وہ اپنا چمن

0
6