نہ دل میں انا ہے نہ کوئی حسد ہے
نہ فطرت میں بغض و عداوت نہ کد ہے
ہمیشہ سبھی کا بھلا ہی کیا ہے
بھلے نیک ہے یا بھلے کوئی بد ہے
کسی کی جو مشکل کو آسان کر دے
خدا اس کی مشکل میں کرتا مدد ہے
میں دل چیر کر دوں دلیل محبت
کہ اس نے محبت کی مانگی سند ہے
جنوں عشقِ دلبر نے ایسا جگایا
ہوئی چاک میری قبائے خرد ہے
دلِ ناتواں کب تلک ہجر کاٹے
تغافل کی ظالم ترے کوئی حد ہے
کسی سے وفا وہ بھلا کیا کرے گا
وفا کے جو معنی سے ہی نابلد ہے
خدایا غضب یا کوئی مصلحت ہے
مری ہر دعا ہو رہی مسترد ہے
کسی روز بسنا ہے زیرِ زمیں بھی
مرے نام کی بھی کہیں پر لحد ہے
سحابؔ اس جہاں میں ہر اک شے ہے فانی
کہ لافانی بس اک خدائے احد ہے

41