تیرے پہلو ترے خیال کے ہم!
نہیں ہوۓ کبھی وصال کے ہم
عین معمول سے ہیں روز و شب
ہے ابال اپنا اور وبال کے ہم
وقت کی بات تھی، بدل گیا وقت
رفتہ رفتہ ہوۓ زوال کے ہم
دل ہے وقتاً فوقتاً افسردہ
گاہے گاہے کسی ملال کے ہم!
حال پر اکتفا تو ہے لیکن
خود کو ملتے ہیں گزرے سال کے ہم
تم کہاں ہم کہاں، کہاں پیمان!
بس کہ ہیں خوابِ اتصال کے ہم
ہے ترا غم، غمِ معاش کے ساتھ
اس کے مابین اعتدال کے ہم

0
3