| دائماً یوں بندگی میں رہ گیا |
| دل جو تیری عاشقی میں رہ گیا |
| دیکھ لے کس سادگی میں رہ گیا |
| عشق ہوں میں تو اِسی میں رہ گیا |
| عاشقوں کی ہمسری میں رہ گیا |
| میں خوشی سے عاجزی میں رہ گیا |
| ہاں کوئی تھا جو کسی میں رہ گیا |
| میں ترا تھا تو تجھی میں رہ گیا |
| تکتے رہنے کی خوشی میں رہ گیا |
| تیرے رُخ کی روشنی میں رہ گیا |
| میں تری تعریف ہی میں رہ گیا |
| اس غرض سے شاعری میں رہ گیا |
| میں رکھا تو برتری میں رہ گیا |
| اور خود میں کمتری میں رہ گیا |
| دیکھتا تجھ کو خودی میں رہ گیا |
| اور کبھی مٰن بے خودی میں رہ گیا |
| ایک پَل کو جو ذکیؔ میں رہ گیا |
| "کیا مزہ اب زندگی میں رہ گیا" |
معلومات