دائماً یوں بندگی میں رہ گیا
دل جو تیری عاشقی میں رہ گیا
دیکھ لے کس سادگی میں رہ گیا
عشق ہوں میں تو اِسی میں رہ گیا
عاشقوں کی ہمسری میں رہ گیا
میں خوشی سے عاجزی میں رہ گیا
ہاں کوئی تھا جو کسی میں رہ گیا
میں ترا تھا تو تجھی میں رہ گیا
تکتے رہنے کی خوشی میں رہ گیا
تیرے رُخ کی روشنی میں رہ گیا
میں تری تعریف ہی میں رہ گیا
اس غرض سے شاعری میں رہ گیا
میں رکھا تو برتری میں رہ گیا
اور خود میں کمتری میں رہ گیا
دیکھتا تجھ کو خودی میں رہ گیا
اور کبھی مٰن بے خودی میں رہ گیا
ایک پَل کو جو ذکیؔ میں رہ گیا
"کیا مزہ اب زندگی میں رہ گیا"

3