دل سے مٹا دیا تھا جو سارا لکھا ہوا
محسوس ہو رہا ہے دوبارہ لکھا ہوا
چشمِ مثالِ دشت میں قندیل جل اُٹھی
دیکھا کہیں جو نام تمھارا لکھا ہوا
اُس نے لکھا ہے آج اُسے جان ہے عزیز
ہم نے جسے ہے جان سے پیارا لکھا ہوا
ہم کو تھما دیا گیا وہ مُشک بار خط
جس پر نہیں تھا نام ہمارا لکھا ہوا
جذبوں کی آنچ سے سرِ قرطاسِ آرزو
حکمت سے ایک نقش اُبھارا لکھا ہوا
میری کتابِ عمر ہے اوروں سے منفرد
اس میں ہر اک جگہ ہے خسارہ لکھا ہوا
سب لوگ مانگتے ہیں مرادیں جہاں قمر
ہم نے بس ایک اسم پکارا لکھا ہوا
قمرآسیؔ

0