مرے مصطفیٰ سے بہتر کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
شہِ انبیاء کا ہمسر کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
کوئی بیہی خواہ ایسا کوئی خیر خواہ ایسا
جو دعا دے کھا کے پتھر کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
یہ ہیں اعلیٰ الفتوں میں یہ ہیں بالا چاہتوں میں
کوئی مصطفیٰ سے اوپر کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
ہوں نبی جہاں وہاں پر رہیں آٹھ سو منوّر
کوئی ان سے بڑھ کے انور کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
ہیں سب اس کے زیرِ سایہ نہیں جس کا کوئی سایہ
ہو سراپا نور پیکر کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
وہ جو حق کی رہ چلا دے وہیں چل کے بھی دکھا دے
کوئی رہبر ان سے اکبر کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
وہ مقام جائے حق ہے وہ جہاں جہاں سے گزرے
کوئی در بھی اس سے برتر کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
یہ جو رب ادا ہے کرتا ہے درود پاک ان کا
ہو سلامِ رب بھی جس پر کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
ہوں ذکیؔ غلام ادنیٰ میں نبیِ مصطفیٰ کا
کوئی مجھ سے بڑھ کے احقر کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا

0
1