​ہماری ہر اک بے بسی کا سبب تم
ہمارے دلِ زار پر اک غضب تم
​نہ شکوہ زباں پر، نہ آنکھوں میں آنسو
سکھاتے ہو جینے کا کیسا ادب تم
​بکھر کر بھی تجھ سے جدائی نہ چاہی
رہے بے بسی میں بھی دل کی طلب تم
​جفا کر کے بھی مسکراتے ہو ہم پر
ستم ڈھاتے رہتے ہو کیسا عجب تم
​دیا تم نے ہم کو شبِ غم کا تحفہ
بنے غیر کی محفلوں کا طرب تم
​نویدؔ اس محبت میں ہم کو ملا جو
ہماری اسی بے بسی کا لقب تم

0
5