​سچ کی آوازیں لگا کر زرد رُو اب جی چکا ہوں
ظلم کی تاریک شب میں ہر ہلاہل پی چکا ہوں
​چیخنے سے جب نہ بدلا اس سڑے مردار کا رنگ
کاٹ کر احساس کی گردن لب اپنے سی چکا ہوں

0
1