| ظرف ہوتا ہے بس فقیروں میں |
| بانٹتے خیر ہیں شریروں میں |
| شاہ کا دھیان بانٹنے والا |
| کوئی کم ذات ہے مشیروں میں |
| اک نجومی نے راز کھول دیا |
| کچھ نہیں ہاتھ کی لکیروں میں |
| ان گنت ہیں دعائیں میرے ساتھ |
| گنا جائے مجھے امیروں میں |
| دے رہے ہیں کمین گہ کی خبر |
| پھول اٹکے ہوئے ہیں تیروں میں |
| تخت پر اک سپاہی قابض ہے |
| والیِ تخت ہے اسیروں میں |
| محفلِ مہ رخاں میں ہے آسیؔ |
| کوئلے سا چمکتے ہیروں میں |
| قمرآسیؔ |
معلومات