اے عشق! مُجھے زِینتِ سرکارؐ دکھا دے
تَطہیر کے گُلشن کا ثَمربار دکھا دے
عثمانؓ و عمرؓ ہوں کہ ابوبکؓر و ابوذرؓ
حسنینؓ و علیؓ و جعفرِ طیارؓ دکھا دے
جس نُور سے مَفرور ہے تثلیث کی ظُلمت
اَصحابِ مُباہلؑ کی وہ جَھلکار دکھا دے
جو لایا مسیحائی کو قرآن کا نُسخہ
سِی پارہ دِلوں کا وہ رَفوکار دکھا دے
اُمت کو بچایا ہے جہنم کی تَپِش سے
رحمت کا سراپا وہ مددگار دکھا دے
ہوں جس کی زیارت سے گُہر بار یہ آنکھیں
وہ عشقِ محمدؐ کا گرفتار دکھا دے
سرکارؐ کی آمد ہو مِرے گھر میں اچانک
"اے زیست! یہ منظر بھی تو اِک بار دکھا دے"

0
13