کیا دیکھتا ہے آنکھ سے، سنتا ہے کیا تُو کان سے
کیا گل کھلائے ہاتھ نے، بولا ہے کیا زبان سے
دل میں بسا رکھا ہے کیا، خود سے سوال کر ذرا
روشن ہے یا تاریک ہے، یہ جان لے ایمان سے
پاکیزہ رکھ آنکھوں کو تُو، محفوظ اپنے کان بھی
بچتا رہے گا دل ترا پھر حملۂ شیطان سے
طاقت ہے تیرے ہاتھ میں تو تھام لے بے کس کا ہاتھ
اس کے صلے میں جائے گا تُو خلد میں بھی شان سے
دیں گے گواہی ایک دن تیرے اعضا تیرے خلاف
پوچھے گا جب یہ کبریا روزِ جزا انسان سے
توبہ کا در کھلا ہوا ہے، لوٹ کر آ جا ابھی
رحمت بلاتی ہے تجھے اپنے کرم کی شان سے
عتیق اب بھی وقت ہے سنبھال اپنے آپ کو
اعمال پوچھے جائیں گے تیری یہ نازک جان سے

0
7