احسان خُدا کا اُس پہ ہُوا، عطار کا دامن جِس کو مِلا
ہر آن کرے وہ شُکرِ خُدا، عطار کا دامن جِس کو مِلا
تاثیر زباں میں ایسی ہے، تقدیر بدل دی لاکھوں کی
ظاہر باطن کیا خوب سجا، عطار کا دامن جِس کو مِلا
اخلاص کا درس یہاں سے مِلا، نِیّت کا قبلہ سیدھا ہُوا
مقصود ہے اُس کو رب کی رِضا، عطار کا دامن جِس کو مِلا
دِل میں بھی ندامت آنکھوں سے، اشکوں کا دریا جاری ہے
توبہ کا در کُچھ ایسا کُھلا، عطار کا دامن جِس کو مِلا
دُنیا پے مرنے والوں کو، طیبہ کا بنایا دیوانہ
سینہ بھی اُس کا مدینہ بنا، عطار کا دامن جِس کو مِلا
زیرکؔ تُو پکڑ مضبوطی سے، عطار کا در چُھوٹے نہ کبھی
فتنوں سے وہ محفوظ رہا، عطار کا دامن جِس کو مِلا

0
4