رخ سے یہ پردہ ہٹا، بات بنے
نین سے نین ملا، بات بنے
مدعا کوئی اٹھا، بات بنے
کھول دے بندِ قبا، بات بنے
بجھ نہ جائے کہیں یہ دل کی آگ
ہلکی ہلکی دے ہوا، بات بنے
وصل میں ہوش کا کچھ کام نہیں
جام پر جام پلا، بات بنے
میں ہوں بدنامِ زمانہ شاعر
مجھے کوئی دے سزا، بات بنے
ہے یہاں تشنہ لبی صدیوں سے
ہونٹ سے ہونٹ ملا، بات بنے
زیبؔ کو روٹھنے کی حسرت ہے
تُو مرے ناز اٹھا، بات بنے

4
182
انتہائی خوبصورت غزل !!

بہت شکریہ محترم

اسامہ میں عموما صرف زبان و بیان کی غلطیوں کی طرف اشارہ کرتا ہوں اس کے بعد بات ذاتی پسند نا پسند کی ہوتی ہے جو میں نہیں کرنا چاہتا

دیکھیئے مدعا کوئ اٹھا غلط ہے - مدعا عربی کا لفظ ہے جو اٹھایا نہیں جاتا - ایک ہندی کا لفظ بھی ہے مددا ، وہ اٹھایا جا سکتا ہوگا مگر میرا نہیں خیال کہ آپ وہ مددا کہنا چاہتے ہیں

مقطع بھی زبان کے حساب سے غلط ہے

زیبؔ کو روٹھنے کی حسرت ہے
تُو مرے ناز اٹھا، بات بنے

جب آپ پہلے مصرعے میں نام استعمال کریں گے تو دوسرے میں اس کے حساب سے ضمیر "مرے" نہیں آئیگی
اس کے آئیگی


0
جی محترم بہت شکریہ میں اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرتا ہوں

0