طے کر گئے ایمان کی اقدار بہتر
کہلائے وفاداری کا معیار بہتر
ہر ایک گلِ تر سے معطر ہیں زیادہ
مہر و مہ و انجم سے ہیں ضو بار بہتر
امکان بھٹکنے کا مرے کوئی نہیں ہے
رہبر ہیں مرے صاحبِ کردار بہتر
دیتے رہے دنیا پہ وہاں دین کو ترجیح
مقتل میں بھی کرتے رہے ایثار بہتر
مولا نے کیا خلد کے سرداروں میں شامل
چھوڑ آئے مدینے میں جو گھر بار بہتر
رہبر ہیں نقوشِ قدم ان کے سرِ دنیا
محشر میں بنیں قافلہ سالار بہتر
خواہش ہے برس عمر کے پائیں کوئی نسبت
گر ہوں نہ تریسٹھ تو ہوں سرکار بہتر
آتی ہے مجھے یاد جونہی شامِ غریباں
گرتے ہیں مرے اشک ہر اک بار بہتر
عترت کی محبت سے چمکتا ہے مرا دل
گھیرے میں لیے ہیں اسے زرتار بہتر
شبیر ہیں اک ایسے گلستان کے مالک
سرسبز لگے جس میں ہیں اشجار بہتر
رکھتا ہے دعاؤں میں قمرؔ ان کا وسیلہ
بخشش کے نظر آتے ہیں آثار بہتر
قمرآسیؔ

0
3