یہ سچ ہے اپنی ذات سے ہی بھاگتا ہوں میں
کچھ ایسے زخم ہیں کہ جنہیں پالتا ہوں میں
آیا عدم سے دیکھیے جاتا کدھر کو ہوں
ہے خاک بے بسی کی جسے چھانتا ہوں میں
پوچھا تھا گرچہ تو نے الَسْتُ بِرَبِّكُمْ
قالو بلیٰ تو یاد نہیں سوچتا ہوں میں
مسجود قدسیاں تھا کبھی میرا یہ وجود
تب سے ہی اپنے نفس کو گردانتا ہوں میں
ظاہر میں اس زمین پہ فانی ہے میرا جسم
باطن میں لا یموت کو اب کھوجتا ہوں میں
میں کون ہوں میں کیا ہوں نہیں جانتا اگر
تو کون ہے کہاں ہے یہی پوچھتا ہوں میں
سنتا ہے وہ صدائیں دِلِ نامراد کی
ہاں دل تو مضطرب ہے اسے جانتا ہوں می

0
2