رویے گر بدل جائیں تو حیرانی نہیں ہوتی
مگر یہ بھولنے میں مجھ کو آسانی نہیں ہوتی
تعلق جب بلندی چھو کے پھر واپس پلٹتا ہے
تو ایسا کرنے والوں کو پشیمانی نہیں ہوتی؟
تغیر اور تبدل ہے زمانے کی ہر اک شے میں
سو مجھ سے عارضی رشتوں کی مہمانی نہیں ہوتی
ترا انکار مجھ کو کام آیا زندگانی میں
تو گر انکار نا کرتا میں استانی نہیں ہوتی
قدر کر لو ہماری ہم ابھی کچھ دن کے مہماں ہیں
ہم ایسوں کی جہاں بھر میں فراوانی نہیں ہوتی
ہماری آنکھ سے رم جھم کبھی ایسے برستی ہے
ندی نالوں میں جیسے کوئی طغیانی نہیں ہوتی؟
اگر دل ٹوٹ جائے تو خدا سے جوڑ دیتا ہے
کسی ٹُوٹے ہوئے دل میں بیابانی نہیں ہوتی

9