| ایسے مِری حیات کا قصّہ تَمام ہو |
| آنکھوں میں میری صُورَتِ خَیْرُ الْاَنامؐ ہو |
| اپنی لَحد میں دیکھوں جو نُورِ حضورؐ کو |
| میری زُباں پہ جاری دَرود و سَلام ہو |
| دیکھا جو حُسنِ آقاؐ تو شَشدر سا رَہ گیا |
| دل نے کہا کہ آپؐ ہی حُسنِ تَمام ہو |
| پاکیزگی تمہاری کی میں کیا مثال دُوں |
| ماہِ صِیام ہو کہ جَزائے صِیام ہو |
| عشقِ خُدا میں آپؐ کا ہَمسر نہیں ہُوا |
| دربارِ عاشقی کے مُقدم اِمام ہو |
| ایسے میں آقاؐ آئے نَکیروں کے درمیاں |
| کہنے لگے کہ تُم تو ہمارے غُلام ہو |
| بَھر کے پلائی عشقِ حقیقی کی مَے مُجھے |
| مُجھ کو لگا کہ جیسے یہ کوثر کا جَام ہو |
| اُنؐ کے کرم سے میری خَلاصی تو ہو گئی |
| رخصت ہوئے وہؐ ایسے کہ دن میں ہی شام ہو |
| جس نے وَسیلہ پکڑا محمدؐ کے نُور کا |
| ہوتا ہے کام اُس کا اَگرچہ وہ خام ہو |
معلومات