اس سمت بھاگتا ہے دلِ آشنا ابھی!
کچھ خواب راستوں کی مشقت میں رہ گئے
کچھ آرزوؤں جو دہر کی لَو میں
بے طرح خاک ہوئی
کچھ دوست
جو یاد بھی نہیں ہیں!
اس شہر کا فرار عجب تھا!

0
2