ستمگر حکمرانوں کی حمایت کے علاوہ بھی
تمہیں کچھ کام کرنے کے روایت کے علاوہ بھی
خدائے لم یزل ہم تنگ دستوں کے لیے آخر
کوئی تو راستہ ہونا تھا ہجرت کے علاوہ بھی
خدا سے اور بھی باتیں کروں گا روز محشر میں
اے میرے بے وفا تیری شکایت کے علاوہ بھی
جوانی میں جلاوطنی ، کفالت اہلِ خانہ کی
غموں کا بوجھ تھا مجھ پر محبت کے علاوہ بھی
اشارے پر کھڑے بچے کی خالی جھولی نے تم سے۔
تمنا کی تھی اے سنگ دل نصحیت کے علاوہ بھی
ضعیف العمر ماں ، والد جواں بہنیں دکھی بیوی
یہ لاشیں ہیں جواں بیٹے کی میت کے علاوہ بھی

0
2