| علم و ادب کا ہر فن ،سیراب آپ سے ہے |
| پیارے ادیب صاحب، ہر باب آپ سے ہے |
| گلشن کے باغباں ہیں، ہر فن کے آسماں ہیں |
| اسلاف کے نشاں ہیں، رفعت کے اک جہاں ہیں |
| فکر و ہنر کا گلشن، شاداب آپ سے ہے |
| علم و ادب کا ہر فن، سیراب آپ سے ہے |
| پیارے ادیب صاحب، ہر باب آپ سے ہے |
| اردو زباں کے روشن، اک آفتاب ہیں آپ |
| اور نحو و صَرف کے تَو، اک ماہتاب ہیں آپ |
| عربی سخن کا جوہر، نایاب آپ سے ہے |
| علم و ادب کا ہر فن، سیراب آپ سے ہے |
| پیارے ادیب صاحب، ہر باب آپ سے ہے |
| حاصل ہے جو بلاغت، ہر بات میں حلاوت |
| قدرت نے دی فصاحت، ہر درس میں وضاحت |
| علم و عمل کا نقشِ، آداب آپ سے ہے |
| علم و ادب کا ہر فن، سیراب آپ سے ہے |
| پیارے ادیب صاحب، ہر باب آپ سے ہے |
| ہر دم ہے مدرسہ اسلامِیَّہ وقف روشن |
| محنت عیاں ہے سب پر دن رات کا یہ گلشن |
| گویا کہ محنتوں کا سیلاب آپ سے ہے |
| علم و ادب کا ہر فن، سیراب آپ سے ہے |
| پیارے ادیب صاحب، ہر باب آپ سے ہے |
| اخلاق کے ہیں پیکر، اسلام کے ہیں رہبر |
| تدریس میں ہیں بہتر، ساری کُتُب ہیں ازبر |
| ناچیز یہ منور، مہتاب آپ سے ہے |
| علم و ادب کا ہر فن، سیراب آپ سے ہے |
| پیارے ادیب صاحب، ہر باب آپ سے ہے |
معلومات