وجہِ صبحِ نو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
اب ستارے ہو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
پھیلتا ہی جا رہا ہے سرد موسم کا غلاف
ضبط اپنا کھو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
تم، سکوں اور نیند تینوں ہو گئے جب سے خفا
تب سے پیہم رو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
قہقہوں سے لکھی جانے والی جھوٹی داستاں
آنسوؤںسے دھو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
زُود گو مشہور تھے ہم حلقۂ احباب میں
جب تلک کم گو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
تُو نظر کے سامنے محسوس ہوتا ہے ہمیں
جاگتے میں سو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
کم نہیں ہونے میں آتا تلخ لہجوں کا وبال
بوجھ کب سے ڈھو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
دودِ شمعِ ہجر نے گہنا دیا لیکن قمر
ایک مدت ضو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
قمرآسیؔ

0