مجھے اے زندگی برباد کر دے
تمام اپنا یا استبداد کر دے
بھلا یا میں برا ہوں شاد کر دے
جو دل میں ہے وہ یا ارشاد کر دے
بقا کا ہم نے یہ دیکھا کرشمہ
کبوتر کا جگر فولاد کر دے
مقدر میں ہر اک کے ہے تباہی
جسے تو شاد یا ناشاد کر دے
ہر اک کھینچا ہوا دم بیخودی میں
سزا کی کم مری میعاد کر دے
خبر کیا ہے تجھے تیرا تبسم
محبت کا جہاں آباد کر دے
پگھل جاۓ وہ مثلِ موم جو دل
کلیجا توڑ کر فریاد کر دے
رہے نام و نشاں اس کا نہ باقی
خدا ظالم کو یوں برباد کر دے
یقیں میری وفا کا گر نہیں ہے
تو پابندِ وفا آزاد کر دے
تجھے معلوم ہے تیرا تغافل
جسے چاہے اسے برباد کر دے
لگا رہتا مجھے ہر دم ہے دھڑکا
رہا مجھ کو نہیں صیاد کر دے
صنم اچھا نہیں دیکھو زمانہ
جدا ہم کو نہ یہ بد زاد کر دے
دعا کرتے خدا سے ہیں مخنث
ہمیں بھی صاحبِ اولاد کر دے

0
3