سن لی مری خدا نے تو قسمت سنور گئی
رحمت کی اک نگاہ تھی بس کار گر گئی
اک خالی پیٹ شخص کا پوچھا جو میں نے حال
اس کی جواب میں تھی فقط آنکھ بھر گئی
آنکھوں کا تھا قصور تو ملتی سزا انہیں
دل کا تھا کیا قصور چھری دل پہ پِھر گئی
انساں کا سامنا ہوا ایسی وبا سے آج
ہے عقل جس کے سامنے بس گھاس چر گئی
ہم ہو گئے بڑے تو یہ احساس تب ہوا
بےفکریوں کی عمر تو پیچھے گزر گئی
فطرت نہیں بدلتی ہے انسان کی مگر
کوشش جو کی تو تھوڑی یہ واللہ سدھر گئی
مانگی جو زندگی سے تھی مہلت دوام کی
یہ بے وفا حسینہ تھی یکسر مکر گئی
شمس و قمر فلک یہ ستارے یہ کہکشاں
اک تو ہی تو ہے مولا جہاں تک نظر گئی
اب رابطوں کی تیزی کا عالم ہوا ہے یہ
لو چھینک لمحہ بھر میں جہاں کو خبر گئی
آنکھوں میں تھے حیاکے جو ڈورے وہ کیا ہوئے
باتوں میں اک جھجھک تھی وہ جانے کدھر گئی
طفلِ غریب فکر بقا میں ہوا ضعیف
بچپن کی لا ابالی نہ جانے کدھر گئی
اب ناگہانیوں کی وہ کثرت ہے الاماں
اک اک خبر ہے دل یہ مرا کاٹ کر گئی
طاہرہ مسعود

0
1