میں گردشِ دوراں کی سیاہ چال میں ہوں
یوں لگ رہا ہے کسی خطہ ءِ زوال میں ہوں
ہر ایک تیر پہ ہے نام میرے یاروں کا
مرا خیال ہے میں دشمنوں کی ڈھال میں ہوں
دکھوں سے ایسی رفاقت ہے اب کیا کہیے
لہو ٹپک کے بتاتا ہے میں ملال میں ہوں
مرے زوال کے مشتاق دوستو ٹھہرو
میں آج لہروں کی بس آخری اچھال میں ہوں
ہوائے ہجر یوں کھیلا نہ کر غریقوں سے
مجھے نہ چھیڑ کہ میں ضبط کی مثال میں ہوں
مری وفاؤں نے رسوا بھی کر دیا گرچہ
مگر میں آج بھی بس خواب اور خیال میں ہوں
عجیب لوگ ہیں چہروں پہ اک نقاب لیے
میں چاہتوں میں چھپی نفرتوں کے جال میں ہوں
میں سنگدل جو ہوا تو کمال کر دوں گا
تُو جانتا ہے وفا کی ابھی مثال مَیں ہوں

0