جاں قدم بڑھانے کو جی ڈرے وہاں رقص کرمکِ بام کر
اَگر ایک بار نصیب ہو تو یہ جاں فدا سرِ عام کر
یہ سکوت عشق میں عیب ہے نہیں رسم عشق میں خامشی
جہاں بات کرنا محال ہو واں اٹھا کے سر کو کلام کر
جہاں شوق صحوِ سُکَر میں ہو جہاں علم وجد فنا میں ہو
جہاں نغمے طُرب وصال ہوں وہاں حجتوں کو تمام کر
ترا داغ سجدہ ہو داغ دل تو یہ بندگی بھی قبول ہے
ترا داغ سجدہِ دل نہیں وہ نماز خود پہ حرام کر
وہ ہے ضعف نفس میں مبتلا کہ نشان و تیغ و سپر نہیں
ہو بلند سر جہاں نیزے پر تو انہی کے ساتھ قیام کر
مری زندگی مری جستجو مرا قفسِ جاں مرے ہاتھ پر
مجھے حَضر موت سے کم نہیں چلو ساتھ دل ذرا تھام کر
مرا نفس زندہ و جاوداں میں بقائے عہد شباب ہوں
مری زد میں سدرہِ منتہی مجھے اس جہاں کا امام کر

0
3