مُلتان کی یادیں کیا کہنے، لوگوں کی قطاریں کیا کہنے
ہیں خوب نظارے نیو وَک میں، نیو وَک کی بہاریں کیا کہنے
عُشّاق کا ایک سمندر ہے، عرفات مِنیٰ کا منظر ہے
سوئے ہیں کُچھ تو خیموں میں، کتنوں کا زمیں پر بستر ہے
یُوکے ہے پاکستان نہیں، یہ کام کوئی آسان نہیں
اللہ کی رِضا مقصد ہے فقط، اور دِل میں کوئی ارمان نہیں
ہم عشق کے جام پلاتے ہیں، طیبہ کا دِوانہ بناتے ہیں
سُنّت سے سجا کر ظاہر کو، پھر باطِن بھی چمکاتے ہیں
شیطان سے جنگ ہماری ہے، یہ جنگ تو نفس پہ بھاری ہے
ہر ایک محاذ پہ دیکھو تو، سینہ تانے عطاری ہے
محفل ہر سال سجائیں گے، شیطان کو خوب جلائیں گے
تاریخ رَقَم تو ہو گی ہی، ہم اِس سے بھی آگے جائیں گے
تنظیم کا دامن چُھوٹے نہ، بندھن یہ کبھی بھی ٹُوٹے نہ
ہے خاص دُعا رب سے زیرکؔ، عطار کبھی بھی رُوٹھے نہ

0
5