غم کا دریا ہے اتر جائے گا
وقت آخر ہے گزر جائے گا
ہے منادی یہ مرے حاکم کی
گر تو بولے گا تو سر جائے گا
اپنی انگلی نہ اٹھا ظالم پر
بچ کے مقتل سے نہ گھر جائے گا
آگ ہے دار و رسن ہے ہر سو
تو کہ جل جائے گا مر جائے گا
میں یہ کہتا ہوں زمانے سے پر
مارا جائے گا جو ڈر جائے گا
کون رہتا ہے سلامت جگ میں
دکھ ہے پھر کیوں کہ بکھر جائے گا
خواب تو زندہ رہا کرتے ہیں
آنکھ میں بس کے کدھر جائے گا
شمع امید جلائے رکھنا
ہے اندھیرا یہ نکھر جائے گا
رب کی رسی کو نہ چھوڑو شاہد
خالی دامن ترا بھر جائے گا

0
4