| بڑھ گیا جو درد تو پھر شاعری ہو جائے گی |
| روح جب تڑپے گی تب ہی نغمگی ہو جائے گی |
| آپ کے در پر ملے گا جب مجھے اذنِ سجود |
| بے خودی جب حد سے گزرے گی، خودی ہو جائے گی |
| خاک ہونا ہے اگر اب شرط مِعراجِ وفا |
| یار کے در پر مری پھر زندگی ہو جائے گی |
| خاکِ در تیری جو آنکھوں سے لگاؤں ایک دن |
| ختم آنکھوں سے مری یہ تیرگی ہو جائے گی |
| مٹ گیا میں جب تو پایا پھر حقیقت کا سراغ |
| بندگی جب ختم ہوگی، بندگی ہو جائے گی |
| نفرتوں کے اس جہاں میں اے مرے ساقی ہمیں |
| دے وہ ساغر جس سے دل میں عاشقی ہو جائے گی |
| تشنہ لب اخترؔ کھڑا ہے تیری محفل میں یہاں |
| اک نظر کر دے گا تو پھر یاوری ہو جائے گی |
معلومات