Circle Image

Muneeb choudhary

@MuneebPakistani1

حال کو ہی اچھے سے جی لیتے ہیں
پھر یہ لمحے دیکھیں یا نا دیکھیں ہم

0
121
کوئی دیکھے ناں اس کی جانب کیسے بھی
ہم نے خود سے بھی اس کو چھپا رکھا ہے
وہ اور ہیں جو حقیقت پر ڈٹ جاتے ہیں
ہم نے تو سورج کو بھی چاند بتا رکھا ہے
پاؤں زخمی ہوئے تو وہ سر کے بل دوڑے
جب ہی تو تاریخ میں لفظِ وفا رکھا ہے

0
120
یوں تو تھا ان کو پورا بھروسا
اور ہم کو بھی فکر رہی تھی
ان کو بھی میرا سب پتا تھا
مجھ کو بھی یہ سچ پتا تھا
اپنی بات پہ وہ سچے تھے
پر جھوٹے تو ہم بھی ناں تھے

0
177
یہ آخر کیسی مشکل میں ڈالا ہے زندگی تو نے مجھے ؟
خود کو بھی دوشی نہیں ٹھہرا سکتے اور برا وہ بھی نہیں

0
81
اگر میں کسی شام لکھوں تجھے
تھل کی دھرتی پہ بیٹھ کے
تو پھر ڈوبتا سورج تھم جائے گا
روشنی پھیلنے لگے گی
ریت بھی جھومنے لگے گا
ہر ذرے کو تیرا خمار چڑھے گا

0
229
پھر ریت بھی جھومتا ہے پاگلوں کی طرح
جب تھل میں آتی ہے بارش رقص کرتے ہوئے

0
139
چہرے کھل اٹھتے ہیں ناراضگی گھٹتی ہے
اے ابر تو میرے تھل میں اکثر برسا کر

0
97
افسوس کے اب جا کے افسوس ہوا ہے
افسوس کے ہم ہجر کا غم نا کر سکے

0
112
ہر نسلی کا اس کی نسل سے پتا لگتا ہے
پیٹ پہ آ پڑے تو ایماں کا پتا لگتا ہے
اب ذرا سی مشکل پہ تو گھبرایا نہیں کرتے
مشکل میں ہی تو انساں کا پتا لگتا ہے
باتیں کرنے سے باطن کا پتا نہیں چلتا
مہماں کے آتے ہی میزباں کا پتا لگتا ہے

0
221
چہرے یوں نا بناؤ کے سب ترس کریں
غم اتنے نا سناؤ کہ سب رقص کریں

0
114
لگتا ہے اس کے گاؤں کی فصل ابھی پکی نہیں ہے
جب ہی اس کے کپڑوں میں پیوند لگے ہیں
میں بھٹکا نہیں تھا اور ناہی رانجھا بنا ہوں
میرے سینے پہ تو غربت کے زخم لگے ہیں

0
131
شہر کے سرداروں سے لڑ پڑوں گا میں پھر ہر قیمت پر
یہ تو میرے گاؤں کے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے

121
تیری ہنسی سے ہوئے سات جنم
اور یہ ساتوں جنم تم پہ نثار

140
کیسی بےتوقیری سے اس نے
میرے نام کو پڑھتے ہی رد کیا
کی جب اسی کے لہجے میں بات
تو وہ تڑپ کے بولے یہ حد کیا

0
78
جب ہم زینت محفل نا ہونگے
تو بتاؤ کیا تم ہمیں یاد کرو گے
وہ نغمات فجر میں
وہ لمحات عصر کے
بیتے ہوئے وہ پل
گزارے تھے جو کل

0
101
چمن میں رہنے کا یہ کیسا صلہ ملا
توڑا گیا ہمیں اک بوسیدہ خیال کے ساتھ۔
پھول تو پھول تھے ٹہنی نے بھی کیا شکوہ
کیوں بچھڑا گل اس سے بڑے پامال کے ساتھ
ساری عمر ہم نے مستی میں گزاری ہے
کیا ملے گی ہمیں خلد بنا عمال کے ساتھ

125
خاب جو سچے نہیں ہوتے
ان خوابوں کو رونا کیا۔
وہ جو مل کے بھی نا ملے
ایسے شخص کو کھونا کیا ۔
ہجر میں بھی ناں تڑپے جو
ایسے عشق کو ہونا کیا،

73
ظلم و ستم تو آپ کے پرکھوں کا ورثہ نہ تھا
آپ تو ان کی روایت سے ہی ہٹ گئے ہیں
جنگ میں ہیں کہہ حوصلہ دیتا تھا ماؤں کو
لیکن اب مشکل یہ گھر امن میں لٹ گئے ہیں
قوم کے واسطے یہ کیا قربانی دیں گے
جو تھوڑی سی مشکل پر ہی بٹ گئے ہیں

0
117
کوئی کیسے کسی کا بنتا ہے
کوئی کیسے کسی کا ہوتا ہے
یہ گر ہمیں بھی بتلا دو ناں
کوئی کیسے کسی میں کھوتا ہے
کیا جو دکھتا ہے وہ ہوتا ہے
یا یہ ڈھونگی کا دھوکا ہے

0
117
وہ کسی ملک کی شہزادی لگتی
جہاں پر پرندے چہچہاتے
بلبل کو سر کا استاد مانا جاتا
شیر ہرن کا شکار نہیں کرتے
کمزور طاقت ور سے نہیں ڈرتے
وہاں لوگ آپس میں ملے بیٹھتے

0
102
نا بھولنا اور نا کرنا صورتوں پر تقسیم
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ

0
100
باندھ کے غم کی گٹھڑی کو
ہم پھینک آئے دریا میں
یہ تو تمہارا گھر نہیں ہے
تھوڑا نخرہ رکھو ادا میں
جان تو دینی پڑتی ہے
جی یہ بچتی نہیں وفا میں

0
119
یہ جو تمہیں شک لگتا ہے
ہر پہلو سے غلط لگتا ہے
باتیں ایسے تو نہیں بنتی
لاکھ کہو کہ فقط لگتا ہے
شوق سے لایا ہے ڈاکیا جس کو
تیرا لکھا ہوا خط لگتا ہے

0
105
یہ میرے تھل کی روایت ہے
کبھی گرمی کا شکوہ نہیں کرتے
بیٹا اک بات نا بھولنا تم
ہم مہمانوں سے نہیں لڑتے
تمہیں یہ کس نے کہہ دیا ہے
صحرا میں پھول نہیں کھلتے

129
آپ دنیا کے ہیں کیا
میں تو دنیا کا نہیں
کوئی مسئلہ ہے کیا
ایسا ویسا کچھ نہیں
موت کا خوف ہے کیا
تھوڑا سا اور کچھ نہیں

0
110
اے شکاری کیا تم تھوڑا ٹھہر سکتے ہو
ابھی تو فاختہ کے بچے بھی چھوٹے ہونگے

84
وہ سر پٹختے اپنے غرور کے ڈھلنے پر
یہ تو شکر کہ رخ سے نقاب اتر گیا تھا

0
115
میری تنہائی میری دشمن تو نا بن
تجھ سے بھی بچھڑا تو کہاں جاؤں گا

0
171
دیکھے جو بچے تو ہنس کر کہہ دیا بوڑھے نے
یہ زندگی اصل میں تو ان ہی کی ہے میاں

0
120
دشمن کے تیر میں بھی یوں دم نا تھا
گھائل تو بس اپنوں کے الفاظ نے کیا
وہ جو بھی پہن لے وہی چمکے لیکن
پاگل تو ہمیں بس ان کے انداز نے کیا
یہ تو تم اور میں کیا لگا رکھی ہے
رسوا ہمیں محفل میں گفتار نے کیا

0
152
اداسی ہم کو چمٹ رہی ہے
یہ بانہیں اپنی پھلا رہی ہے
خیال میرے پہ چھا گئی ہے
ٹھہر ٹھہر کے رلا رہی ہے
ادائیں اپنی دکھا رہی ہے
جو سرکشوں کو بلا رہی ہے

0
101
رہ رہ کر زندگی نے ستایا ہے
یہاں جو اپنا ہے وہ پرایا ہے

168
نا جانتے تھے ہم بچھڑنے کا غم
پھر جان گئے جب وہ بچھڑا ہم سے

231
خود کو ہی ہم نے بھری محفل میں رسوا کیا
غلطی سے جو ہم نے جدائی پہ شعر کہا

115
کیسے بھی کر کے یہ کیا ہم نے
خود ہی سے زندگی کو جیا ہم نے

0
116
عشق کے راستے سے، توبہ کرلی ہم نے
ایسے راستوں پر چلنا ممکن ہی نہیں
تم میری ہو میری تھی، اور میری رہنا
پھر سے ایسا کہنا تو مکمن ہی نہیں

0
113
دشمن جو میرے در کی جانب چلیں گے
ہم پھر سوچیں گے نہیں بس لڑ پڑیں گے
مشکل میں اگر یاروں نے ہی زخم دیے
ہم پاگل زخم لگتے ہی ہنس پڑیں گے ۔
کیوں خاک اڑا کر جی کو بہلا رہے ہو
کیا سوچتے ہو ہم ایسے گر پڑیں گے

0
1
230
دل و دماغ سے تیرے خیال صنم ہم ایسے نکالیں گے
مر مر کے جینے سے بہتر اک نیا رستہ بنا لیں گے ۔
ہر وہ چیز کریں گے جس سے تمہیں نفرت ٹھہری ہے
ہم آشفتہ سر ہیں، پھر الجھنوں سے یاری لگا لیں گے.
اور مقتل کی راہ پہ چلتے ہوئے جو بھی گھبرائے گا
ہم فوراً دوڑیں گے مدد کو اسے سینے میں چھپا لیں گے

3
155
ڈرتا نہیں حالات سے، یونہی مارا مارا پھرتا ہوں
کچھ ہیں! شکوے زندگی سے جو ہارا ہارا پھرتا ہوں

0
4
238
کل بڑے چپکے سے پھر ہم نے عجب چالاکی کی ہے
اپنے ہاتھوں سے تمہارے چہرے کی نقاشی کی ہے

0
86
غم زندگی تجھ سے لڑ کر مسکرا جاتا ہوں
نہیں بنتی تو بس اس سے بات نہیں بنتی!
میری منزل ہیں صحرا کے اونچے ٹیلے
وہ وادیوں کی شہزادی بات نہیں بنتی!
ہم یوں تو بہت سے محاذوں سے واپس آئے
اور تجھ سے بھی واپس جائیں،یہ بات نہیں بنتی!

204
ماضی یا حال پہ رونا آیا
تمہیں کس بات پہ رونا آیا
تمہیں معلوم کیا زندگی کا
آج اس بات پہ رونا آیا
رونے والوں کو برا بولتا تھا
آج ہر بات پہ رونا آیا ،

2
254