Circle Image

انور رضوی

@Anwerrizvi

ظلمتوں میں چراغ روشن ہیں
چاند تاروں کی روشنی ہیں حسین
اولیا جن کو پیشوا مانیں
سارے ولیوں کی بندگی ہیں حسین
دے دیا سر بچا گئے دیں کو
سارے نبیوں کی زندگی ہیں حسین

0
128
جس کو چاہیں وہ ملا کرتے نہیں ہیں ہائے
جانے کیوں لوگ وفا کرتے نہیں ہیں ہائے
سنتے آئے ہیں بدل دیتی ہے قسمت بھی دعا
کیوں وہ ملنے کی دعا کرتے نہیں ہیں ہائے
ختم شکوے بھی ہوئے پھر ہے تغافل کیسا
اب وہ کیوں رسمِ وفا کرتے نہیں ہیں ہائے

0
183
اے نجومی مرا حساب لگا
ہجر کے سال کب ختم ہوں گے
جان چھوٹے گی کب نحوست سے
اور کتنے ابھی ستم ہوں گے

0
211
جانے والے کو بھول جاتے ہیں
رسمِ دنیا عجیب ہے لوگو !
کیا بھلانا اسے بھی ممکن ہے؟
وہ جو دل کے قریب ہے لوگو !

0
100
خزاں رسیدہ سے پتے ہرے نہ ہو پائے
کبھی وصال کے پھر سلسلے نہ ہو پائے
یہ اور بات کہ وہ بے رخی پہ پچھتایا
مگر ختم بھی کبھی فاصلے نہ ہو پائے

0
129
تری ہنسی میں مرا غم چھپا ہوا ہے ابھی
مجھے خبر ہے ترا دل دکھا ہوا ہے ابھی
میں منتظر ہوں تری دید کا مرے پیتم
تو لوٹ آ کہ مرا در کھلا ہوا ہے ابھی

0
114
یہ مری زیست میں تنہائی کے جو سائے ہیں
بے وفا تیری جدائی کے سبب آئے ہیں
پیار مانگا تھا مِلا تیر عداوت کا مجھے
تو نے کیوں میری محبت پہ ستم ڈھائے ہیں
پھول گلشن کے مرے تو نے جو مہکائے تھے
تیرے جانے کے سبب آج وہ مرجھائے ہیں

0
125
جب بچھڑنا تھا دِل مِلے کیوں تھے
مجھ سے منسوب تم ہوئے کیوں تھے
موج آئی نہ جب لبِ ساحل
ریت پر نام پھر مٹے کیوں تھے
کس کا تھا انتظار کچھ تو کہو
دیر تک دھوپ میں کھڑے کیوں تھے

0
204