حسین سے ہی دعاؤں کا واسطہ ہونا
کہ جیسے بندے کا خالق پہ آسرا ہونا
خدا ہی میرا خدا ہے مجھے خدا کی قسم
ہے بندگی مری بندہ حسین کا ہونا
مقام دیکھ کے ماتم کا اپنے سینوں پر
کہ عرش پر بھی ہے فرشِ عزا بچھا ہونا
جھکا سکا نہ کوئی سر حسین والوں کے
یہ سر جھکاتے ہیں گر ذکرِ سیدہ ہونا
وسیلہ دے کے سکینہ کا مانگا حیدر سے
علی سے پہلے ہی عباس کی عطا ہونا
علم اُٹھاتا ہے غازی کا جو جہاں میں کہیں
تو اُس کے پیروں کے نیچے ہی آسماں ہونا
کرم حسین کا تجھ پر بھی ہو گیا حسنین
کے تیرے دل میں بھی آباد کربلا ہونا

0
7