میں جو رفتہ رفتہ زندگی سے پرے  جا رہا ہوں تو میں برق برق انا میں اپنی ِگرے جا رہا ہوںچڑھا کر آنکھ پر پردے لگا کر قفل ایماں کومیں اک بے حسی کے دریا میں اترے جا رہا ہوںمیں دیکھوں ظلم کے منبر پہ ظالم کی ڈھٹائی کوسیےؔ ہونٹوں کو اپنے بے ضمیر ہوےجا رہا ہوںلگی ہے آگ بستی میں جلے ہیں لوگ کتنے ہیمیں چادر اوڑھے غفلت کی سوےجا رہا ہوں ملا کر خاک میں دیکھو اُس عالیشان کی باتیں کہ کیسا خوب خود کو ہی مٹاے جا رہا ہوںجو دیکھا عکس کو اپنے حقیقی آینے میں اخترّتو جانا شرفِ انسانیت سے بہت دور جا رہا ہوں

3
113
فیض والوں کا اگر فیض ہؤا ہوتا ہےبیس کا ہندسہ بھی پھر سو سے بڑا ہوتا ہےیہ فرشتوں کو بھی ابلیس بنا سکتے ہیںوہی ہوتا ہے کہ جو ان نے کہا ہوتا ہے

0
39
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

37
479
کبھی رت پرانی کو یاد کر کبھی مشکلوں کا حساب کرمری حسرتوں کو تو داد دے کبھی حسنِ لیلی کو خواب کرکبھی منتشر کبھی  روبرو، کبھی نفرتیں کبھی آرزوکبھی جستجو رہے کوبہ کو، کبھی دوبدو تو جناب کریہ خیال دل میں اتر گیا کہ زمانہ جو تھا گزر گیا کبھی سوچوں میں وہ   دوام  دے کبھی دید پھر سے عذاب کرکبھی عشق  لا مرے روبرو ،کبھی میں کروں زرا گفتگو کبھی حسن کو بیقرار کر کبھی حسنِ تاب  بے تاب کرکبھی وصل کی رہیں  فرقتیں، کبھی دوریاں کبھی قربتیں کبھی آرزو میں تڑپ ملے کبھی چاہتوں کا حجاب کرکبھی یاد کر کبھی رخ دکھا، کبھی ساقی بن  کبھی مے پلا کبھی شام شامِ غزل کریں کبھی غرق موجِ شراب کرعتیق الرحمن پرستشؔ

0
74