دھواں شعلے سے نکلا موج بھی ساحل سے اٹھتی ہے
عجب کیا ہے اگر میت مزارِ دل سے اٹھتی ہے
چھری جس پر پھری اس کا ہی دل کچھ جانتا ہوگا
کہیں آہ و فغاں بھی خنجرِ قاتل سے اٹھتی ہے؟
درِ اہلِ کرم پہ جب کبھی حسرت پسرتی ہے
اٹھانے سے بھی یہ کافر بڑی مشکل سے اٹھتی ہے
بہت ہی خاک چھانی تھی کبھی صحرا سے محمل تک
جنابِ قیس! لیجیے وہ بھی اب محمل سے اٹھتی ہے
بہت ہی ٹیس پہنچی ہے کسی کے آبگینے کو
کوئی آواز افسردہ تری محفل سے اٹھتی ہے
وہی ہے جلوۂ فاراں وہی ہے شعلۂ سینا
وہی آتش فشاں سی دھول آب و گِل سے اٹھتی ہے
ازل سے ہے سفر ثانی مگر اب تک وہیں ہیں ہم
متاعِ جاں یہ گردِ کارواں منزل سے اٹھتی ہے

0
27