علمِ عروض کا خلاصہ اور سائٹ کے استعمال کا طریقۂ کار
عروض ڈاٹ کام کو کیسے استعمال کریں؟
 
عروض ڈاٹ کام پر آپ مندرجہ ذیل فیچر استعمال کر سکتے ہیں۔
 
 
 
نیچے علم عروض کا بہت مختصر خلا صہ دیا گیا ہے۔ جو کہ صرف اس نظام سے بنیادی شناسائی حاصل کرنے کے لئے ہے۔ 
 
تقطیع ایک ایسا عمل ہے جس میں شعر کے الفاظ کو توڑ کر ان کا وزن یا بحر معلوم کر سکتے ہیں۔ الفاظ کو لکھنے کے لئے سب سے چھوٹا یونٹ حرف کہلاتا ہے۔ اسی طرح الفاظ کی ادائیگی میں سب سے چھوٹا یونٹ سیلیبل (syllable) یا ہجہ کہلاتا ہے۔ یہ وہ یونٹ ہوتا ہے جو ایک وقت میں ادا ہوتا ہے۔ ان سیلیبل کے مختلف نمونوں (patterns) کو بحر کہتے ہیں۔ سیلیبل کی دو قسمیں (قسمیں تو ذیادہ ہیں لیکن ہم سے متعلق نہیں ہیں) ہیں ایک کوتاہ (short) ایک بلند(long)۔ بلند سیلیبل کی ادائیگی میں کوتاہ سلیبل کے مقابلے میں دوگنا وقت لگتا ہے۔ مثلاً لفظ ”کہاوت“ تین سیلیبل سے مل کر بنا ہے۔ کَ ہا وت۔ پہلا سیلیبل کوتاہ، دوسرا اور تیسرا سیلیبل بلند ہیں۔ 
 
اس سائٹ پر کوتاہ سیلیبل یا ہجائے کوتاہ کو - کے نشان سے دکھایا گیا ہے۔ اور بلند سیلیبل یا ہجائے بلند کو = کے نشان سے دکھایا گیا ہے۔ تو لفظ کہاوت کی تقطیع اس نظام کے مطابق ہو گی -== 
 
افاعیل/ارکان  سے مراد ایسے الفاظ ہیں جو کہ شعر کا وزن معلوم کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ سب الفاظ عربی لفظ ”فعل“ سے بنے ہیں۔ مثلاً فاعلن، فعولن، مفاعیلن، فعل وغیرہ۔ اوپر دیئے گئے سیلیبل کے نظام کے مطابق۔ فا عِ لُن کو =-= لکھیں گے۔ فَ عُو لُن کو -== لکھیں گے۔ اوپر دئے گئے لفظ ”کہاوت“ کی جگہ ہم فعولن استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ دونوں کا وزن برابر ہے۔ تو اگر ایک مصرع صرف کہاوت کی تکرار سے مل کر بنا ہو مثلاً کہاوت کہاوت کہاوت کہاوت تو اس کی جگہ ہم فعولن فعولن فعولن فعولن لکھ سکتے ہیں پا پھر اشاراتی نظام میں -==/-==/-==/-== (/ کا استعمال افاعیل کو الگ دکھانے کے لئے کیا گیا ہے)۔ اس نمونے کا ایک نام ہے۔ ”بحرِ متقارب مثمن سالم“ ۔ تو جس شعر کا وزن بھی ان افاعیل (فعولن کی تکرار) جیسا ہو تو اس کو ہم اسی بحر سے منسوب کریں گے۔ مثلاً ن م راشد کی مشہور نظم حسن کوزہ گر کا مصرع ”یہ میں سوختہ سر حَسَن کوزہ گر ہوں“ اسی بحر پر پورہ اترتا ہے۔ یہ میں سو (-==) خ تہ سر (-==) حَ سَن کو (-==) زہ گر ہوں (-==) یہ یاد رہے کہ اگرچہ ”یہ“ دو حرفی ہے لیکن ”ہ“ کی آواز ”ی“ کی آواز میں ضم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس ”گر“ دو حرفی ہے لیکن بولنے میں ”یہ“ کے مقابلے میں دگنا وقت لیتا ہے۔ تو ”گر“ ہجائے بلند اور ”یہ“ ہجائے کوتاہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ اسی طرح ”ہوں“ اگرچہ تین حرفی ہے لیکن ”ں“ کی آواز اس سے پچھلے والے لفظ کو ناک میں بولنے سے ادا ہوتی ہے۔ یعنی ”ہوں“ اور ”ہو“ کو ادا کرنے میں ایک جتنا وقت لگتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ ایک کی آواز ناک سے نکلتی ہے جب کہ دوسرے کی آواز منہ سے نکلتی ہے۔ تو ”ہوں“ کو ہجائے بلند کہا جائے گا۔ لیکن بعض اوقات ”ہو“ کو تیزی سے ”ہُ“ (یعنی ”ہ“ پر پیش ڈال کر) ادا کیا جاتا ہے۔ یہ شاعر کی صوابدید پر ہے۔ اصول یہ ہے کہ جو بھی الفاظ ”ہ“،”و“،”ی“، "ا" پر ختم ہوتے ہوں اور اگر اخری سیلیبل بلند ہو تو اس کو کوتاہ بھی کیا جا سکتا ہے (اس کے بھی اصول ہیں، جن سے آگاہ ہونے کے لیے مضامین سیکشن میں جائیں)۔ ایسے سلیلبل جو کہ بلند اور کوتاہ کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں ہم نے x سے ظاہر کیا ہے- یہ x اس وقت ہوتا ہے جب آپ تقطیع کر رہے ہوتے ہیں لیکن جب شعر کا وزن معلوم ہو جائے تو x یا تو - یا پھر = بن جاتا ہے۔
 
بحر ، افاعیل/ارکان سے مل کر بنتا ہے۔ اوپر کی مثال میں فعولن کی چار بار تکرار سے ایک بحر بنا۔ لیکن تمام بحور جو رواں اور اردو شاعری میں مستعمل ہوتے ہیں ایسے نہیں بنتے۔ ان پر زحافات لگتے ہیں (زحافات بنیادی رکن کی قطع و برید سے حاصل کئے جاتے ہیں ) مثلاً مفاعیلن (-===)کے چند زحافات ہیں: مفعول (==-)، مفاعیل (-==-)، وغیرہ۔ ان کو اگر ملائیں تو  مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیلن ایک بحر بن جاتی ہے جس کا نام ہے ” بحرِ ہزج مثمن اخرب مکفوف“۔ ” ہزج“ مفاعیلن رکن کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ”مثمن“ عربی میں آٹھ کو کہتے ہیں یعنی اس بحر میں ایک شعر (دو مصرعوں) میں آٹھ افاعیل ہیں۔   اخرب اور مکفوف ان زحافات کی وجہ سے لگا ہے جو کہ مفاعیلن پر لگا کر مفعول اور مفاعیل حاصل کئے گئے ہیں۔ اشاراتی نظام میں اس بحر کو ==-/-==-/-==-/-=== لکھا جائے گا۔ 
 
  تقریباً تمام بحور میں آخر میں ایک ہجائے کوتاہ کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کو اشاراتی نظام میں ~ سے ظاہر کیا گیا ہے (صرف اصلاح کے زمرے میں)۔ یہ اختیاری ہے اس کو لگانے یا نہ لگانے سے بحر تبدیل نہیں ہوتی ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ صرف اور صرف ہجائے کوتاہ کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ایسے سیلیبل کا اضافہ نہیں کر سکتے جو دو حرفی ہو اور جس کے لئے ہم نے x کا نشان استعمال کیا ہے۔ 



علم عروض سے مزید آگاہی کے لئے درج ذیل تحاریر کا مطالعہ کیجئے