علمِ عروض - کچھ اصول اور شاعرانہ صوابدید
[مدیر کی جانب سے نوٹ: اس ویبسائٹ پر ہجائے کوتاہ کے لئے - کا اور ہجائے بلند کے لئے = کا نشان استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ترکیب فرانسس پریچیٹ کی کتاب سے مستعار لی گئی ہے]
 
اس موضوع پر یہ دوسری تحریر ہے، آپ نے اگر پہلی تحریر نہیں پڑھی تو آپ سے استدعا ہے کہ اس تحریر کو بہتر سمجھنے کیلیے پہلی تحریر پر بھی ایک نظر ڈال لیں
 
ہجّے دو طرح کے ہوتے ہیں، ہجائے بلند یا دوحرفی ہجا اور ہجائے کوتاہ یا یک حرفی ہجا اور ان کو بالترتیب 2 اور 1 سے ظاہر کیا جا سکتا ہے لیکن کچھ 'خصوصی ہجے' بھی ہوتے ہیں جن کو شاعر کی صوابدید پر چھوڑا جاتا ہے کہ وہ اسے ہجائے بلند سمجھے یا ہجائے کوتاہ۔ کیوں؟ اس کیلیے ہمیں کچھ وزن اور بحروں وغیرہ پر تھوڑا سا مزید کام کرنا پڑے گا۔ اور کچھ تقطیع یا علمِ عروض کے اصول ہیں جن کو بدلا نہیں جا سکتا، اسکی مثالیں بھی آگے آ رہی ہیں۔
 
پچھلی تحریر میں ہم نے دیکھا تھا کہ 'سبق پہلا' جسے ہجوں میں 2221 میں ظاہر کیا جا سکتا ہے دراصل علمِ عروض میں ایک وزن ہے جسے 'مفاعیلن' کہا جاتا ہے۔ اسی مفاعیلن کو اگر ایک مصرعے میں ہم چار بار دہرائیں تو اس سے ایک بڑی خوبصورت بحر بنتی ہے جسے 'بحر ہزج' کہا جاتا ہے۔ اب یہاں ایک بار بار پھر میں اصطلاحات اور انکے مطلب وغیرہ کو کسی 'اچھے' وقت کیلیے چھوڑتا ہوں، فی الحال اہم بات یہ ہے کہ مفاعیلن کو ایک مصرعے میں چار بار دہرانے سے ایک بحر کا وزن حاصل ہوتا ہے، تھوڑا سا غور کرنے کی ضرورت ہے۔
 
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
یا علامتوں میں
2221 2221 2221 2221
 
یا اگر یہ بھی مشکل ہے تو وہی ہمارا پرانا سبق یعنی
سبق پہلا، سبق پہلا، سبق پہلا، سبق پہلا
واہ واہ واہ، میاں وارث کیا خوب مصرعہ لکھا ہے اس پر گرہ تو لگاؤ ذرا۔
گرہ، حضرت وہ کیا ہوتی ہے۔
اسی وزن میں ایک اور مصرعہ تو کہو بھئی۔
لو جی یہ کیا مشکل ہے، ابھی لو
ملا ہم کو، ملا ہم کو، ملا ہم کو، ملا ہم کو
واہ واہ، کیا خوبصورت شعر ہے
 
سبق پہلا، سبق پہلا، سبق پہلا، سبق پہلا
ملا ہم کو، ملا ہم کو، ملا ہم کو، ملا ہم کو
 
محترم قارئین، آپ نے دیکھا کہ کیسے کچھ الفاظ مل کر ایک شعر بن گئے اور بالکل وزن میں، اوپر دیئے گئے خود ساختہ شعر کو اگر آپ ہجوں میں توڑیں تو نوٹ کریں گے کہ ہجائے کوتاہ اور بلند دونوں ایک ہی ترتیب سے ایک دوسرے کے مقابل آ رہے ہیں اور ہم نے دیکھا تھا کہ یہی وزن ہے۔ اب اس فضول شعر پر لعنت ڈالتے ہیں اور قبلہ و کعبہ مرشدی، خلد آشیانی، میرزا اسد اللہ خان نوشہ کا ایک شعر دیکھتے ہیں۔
 
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
 
میرا خیال ہے کہ آپ بہت کچھ سمجھ رہے ہونگے، جی ذرا اس کو ہجوں میں توڑنے کی کوشش تو کریں۔ مشکل ہے، چلیں جی میرے ساتھ ہی سہی۔
 
ہزاروں یعنی ہَ زا روں
اب اس کو اگر علامتوں مین لکھیں تو ہَ 1، زا 2، رو 2
 
لیکن بھائی نون غنہ کدھر گیا تو یاد رکھنے کا ایک اصول، نون غنہ کا تقطیع یا شعر میں کوئی وزن نہیں ہوتا۔ کیوں اس کو گولی ماریئے کہ میں کہیں اور نکل جاؤنگا پھر کبھی سہی۔ اسکے مقابل نون معلنہ یعنی جسکا اعلان کیا جاتا ہے جیسے 'جہان' میں، تو اسکا وزن ہوتا ہے لیکن غنہ جیسے 'جہاں' میں اسکا وزن نہیں ہوتا۔
 
خواہشیں - یعنی خوا ہِ شیں
لیکن کیا خواہش میں واؤ بولی جاتی ہے، نہیں تو پھر صرف یہ نمائشی ہے اور تقطیع یا شعر میں وہ واؤ جو بولنے میں نہیں آتی اور جسے واؤ معدولہ کہا جاتا ہے، کوئی وزن نہیں رکھتی۔ اور یہ بھی ایک اصول ہے یعنی
خواہشیں یعنی خا ہِ شے یعنی 2 1 2
شعر میں اگلا لفظ 'ایسی' یعنی اے سی یعنی 22۔
اگلا لفظ 'کہ'، کہ کا مسئلہ تھوڑا ٹیرھا ہے، روایتی ماہرین کہتے ہیں کہ 'کہ' کو ہجائے کوتاہ یعنی 1 سمجھنا ایک اصول ہے جسے بدلا نہیں جا سکتا لیکن کچھ 'نرم دل، مہربان اور جدید' ماہرینِ فن کہتے ہیں کہ اس کو اصول نہیں شاعر کی صوابدید پر چھوڑنا چاہیئے کہ چاہے اسے ہجائے کوتاہ سمجھے یا ہجائے بلند کہ 'کہ' بھی دو حرفوں سے مل کر بن رہا ہے یعنی ک اور ہ۔ خاکسار کا شمار موخر الذکر میں ہوتا ہے، ماہرین میں نہیں بلکہ 'کہ' کو شاعر کی صوابدید پر چھوڑنے کیلیے۔ لیکن یہ فقط کسی 'نئے شاعر' کیلیے ہے، اپنی شاعری میں میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی اصول کو چاہے وہ کتنا فرسودہ ہی کیوں نہ ہو، توڑا نہ جائے۔ سو کہ برابر ہے 1 کے۔
شعر میں اگلا لفظ 'ہر، - واہ جی واہ آپ تو بہت جلد سمجھ گئے کہ یہ 2 ہے جبکہ کسی بھی 'ہر' کو سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔
اگلا لفظ - خواہش یعنی خا ہش یعنی 2 2
اگلا لفظ 'پہ' ۔ ایک اور اصول، پہ ہجائے کوتاہ یا 1 ہے بظاہر یہ دوحرفوں ہی سے مل کر بنا ہے۔
اگلا لفظ 'دم' جی 2 ہے۔
اور نکلے جی یہ نک اور لے یعنی 2 2 ہے۔
پھر دیکھیئے
 
ہزارو - 221
خاہشے - 212
ایسی - 22
کہ - 1
ہر - 2
خاہش - 22
پہ -1
دم - 2
نکلے - 22
 
اب مصرعے کو پھرلکھتے ہیں اور اسکے نیچے ہر لفظ کی علامت یعنی
 
ہزاروں/ خواہشیں/ ایسی/ کہ/ ہر/ خواہش/ پہ/ دم/ نکلے
22/2/1/22/2/1/22/212/221
کیا آپ اس ترتیب میں کسی پیٹرن کو دیکھ سکتے ہیں، چلیں دیکھتے ہیں
2221/2221/2221/2221
یہ پیٹرن کچھ جانا پہچانا سا نہیں لگ رہا؟
2221/2221/2221/2221
سبق پہلا/ سبق پہلا/سبق پہلا/ سبق پہلا
ملا ہم کو/ملا ہم کو/ملا ہم کو/ملا ہم کو
مفاعیلن/مفاعیلن/مفاعیلن/مفاعیلن
ہزاروں خوا/ہشیں ایسی/کہ ہر خواہش/پہ دم نکلے
2221/2221/2221/2221
تھوڑا سا مشکل مرحلہ ہے لیکن انتہائی اہم، وزن یہ نہیں ہے کہ ہر لفظ کے مقابل اس جیسا دوسرا لفظ آئے بلکہ وزن یہ ہے کہ ہر ہجائے بلند کے مقابل ہجائے بلند اور ہر ہجائے کوتاہ کے مقابل ہجائے کوتاہ آئے۔ پھر دیکھیں
ہزاروں خوا، مفاعیلن کے مقابل آ رہا ہے، یعنی شعر میں ایک لفظ مکمل یعنی ہزاروں اور ایک ٹوٹا ہوا لفظ 'خوا'، بحر کے وزن مفاعیلن کے برابر آ رہا ہے، یعنی ضروری نہیں کے بحر کے وزن کے مقابل شعر کا مکمل لفظ آئے بلکہ ضروری یہ ہے کہ وزن میں ہجائے کوتاہ کے مقابل ہجائے کوتاہ اور ہجائے بلند کے مقابل ہجائے بلند آئے اور وہ بالکل آ رہا ہے یعنی
مفاعیلن
یا
م فا عی لن
یا
2 2 2 1
یا
ہَ زا رو خا
اسی طرح اگلا رکن
مفاعیلن
یا
2 2 2 1
ہِ شے اے سی
اور اگلا رکن
مفاعیلن
2221
کہ ہر خا ہش
اور
مفاعیلن
2221
پ دم نک لے
پھر دیکھیئے
 
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
ہزارو خا/ہ شے اے سی/کہ ہر خا ہش/پہ دم نک لے
مفاعیلن/مفاعیلن/مفاعیلن/مفاعیلن
2221/2221/2221/2221
 
تو گویا 'ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے' میں آپ نے ایک پیٹرن ڈھونڈ لیا، اور دراصل پیٹرن کا نام ہی بحر ہوتا ہے۔
اب اگلا مصرع، مختصراً
بُ ہَت نکلے - مفاعیلن - 2221
مرے ارما - مفاعیلن - 2221
یاد رکھنے کہ ایک بات اگر 'میرے' لکھا جاتا یعنی 'یا' کے ساتھ تو یہ مے رے یعنی 22 ہوتا لیکن پیٹرن کے مطابق یہاں پر شاعر کو 21 چاہیئے تھا یعنی پہلے ہجائے کوتاہ اور پھر ہجائے بلند سو اس نے 'مرے' یعنی 'یا' کے بغیر لکھ کر اس کو 21 بنا لیا اور یہ بھی ایک شاعرانہ صوابدید ہے کہ میرے، مرے، تیرے، ترے، میرا، مرا، تیرا، ترا وغیرہ الفاظ کو شاعر اپنی ضرورت کے مطابق لا سکتا ہے اور میری کم عقلی یہ کہ میں ہمیشہ یہی سمجھتا رہا کہ شاعر 'میرے' کو ' مرے' شاعرانہ 'ٹچ' کیلیے لکھتے ہیں وہ تو بعد میں سمجھ آیا، جیسے آج آپ کو، کہ یہ تو ان بیچاروں کی ایک بہت بڑی مجبوری ہوتی ہے۔
 
ن لے کن پر - مفاعیلن - 2221
ایک اصول یہ کہ دو چشمی ھ کا کوئی وزن نہیں ہوتا سو 'پھر' ایسے ہی ہے جیسے 'پر' یعنی فقط ایک ہجائے بلند یا 2۔
بِ کم نکلے - مفاعیلن - 2221
بھئی یہ 'بھی' کی دو چشمی ھ تو مانا کہ گنی نہیں جائے گی لیکن اسکی 'ی' کون کھا گیا۔ سو عرض ہے کہ یہ بھی ایک شاعرانہ صوابدید ہے کہ وہ کچھ الفاظ کے آخر میں جو حرفِ علت یعنی الف، واؤ اور ی ہوتا ہے اس کو گرا سکتا ہے اپنی ضرورت پوری کرنے کیلیے، یہ چونکہ ایک طول طلب قصہ ہے سو کسی اگلی پوسٹ میں انشاءاللہ۔ فقط یہ یاد رکھیں کہ شاعر نے یہاں ہجائے کوتاہ پورا کرنے کیلیے ایک ہجائے بلند کے آخری حرف کو گرا کر اسے ہجائے کوتاہ بنا لیا ہے۔
پھر دیکھیں
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
بہت نک لے/مرے ارما/ن لے کن پر/بِ کم نک لے
مفاعیلن/مفاعیلن/مفاعیلن/مفاعیلن
2221/2221/2221/2221
 
 
 
اب اگر آپ دونوں مصرعوں کو بیک وقت دیکھیں
 
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
 
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
 
لیکن بس بھئی اب اسی شعر کی خود تقطیع کرنے کی کوشش کریں اور مزید مشق کیلیے اسی غزل کے باقی اشعار کی بھی۔ جن احباب کو غالب پسند نہیں ہے وہ اس کیلیے اقبال کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔ بانگِ درا کی مشہور و معروف نظم 'طلوعِ اسلام' اسی بحر میں ہے، اور اسکا یہ شعر تو ہر کسی کو یاد ہی ہوگا۔
 
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
 
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
 
اور جن احباب کو غالب اور اقبال دونوں سے کوئی شغف نہیں ہے وہ محمد رفیع کے اس سدا بہار اداس گانے کی ذرا تقطیع کرنے کی کوشش کریں۔
 
بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے کہاں جائیں
 
محبّت ہو گئی جن کو وہ دیوانے کہاں جائیں
 
اور جو احباب بحر ہزج کی کچھ مزید غزلیات اور انکی تقطیع دیکھنا چاہیں وہ موضوعات اور ٹیگز کے تحت 'بحر ہزج مثمن سالم' کا ٹیگ دیکھیں کہ ہماری مذکورہ بحر کا مکمل نام یہی ہے۔
 
اور ایک بات جو انتہائی اہم ہے کہ اس علم میں 'مشق' کی بہت ضرورت ہے بالکل اسی طرح جس طرح ریاضی کے سوال حل کیئے جاتے ہیں، قلم و قرطاس سے ہمارا رشتہ تو ٹوٹ چکا اور ماؤس اور کی بورڈ سے نیا رشتہ استوار ہوا لیکن یقین مانیئے جو لطف کاغذ اور قلم میں ہے وہ اس برقی بلخ اور بخارے میں نہیں۔