علمِ عروض اور ہجّے

پچھلے دنوں اپنے بیٹے کو اردو الفاظ کے ہجّے یاد کرنے کی مشقت کرتے ہوئے دیکھ کر اپنے بھولے بسرے تیس سالہ پرانے دن یاد آ گئے جب میں اسی کی عمر کا تھا اور اسی طرح اردو ہجّوں کے ساتھ پنجابی میں 'کُشتی' کیا کرتا تھا، الف زیر سین اِس، لام زبر الف لا، میم ما 'قُف' اسلام، مجھے آج تک علم نہیں ہو سکا کہ یہ جو ہر لفظ کے آخر میں ہمارے اساتذہ 'قُف' لگا دیتے تھے وہ کیا بلا ہے شاید 'موقوف' ہو۔

 
 
جملۂ معترضہ کا تحریر میں آ جانا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن نہ جانے میری تحاریر میں یہ آغاز میں کیوں در آتا ہے کہ اصل بات کی طرف قاری کا دھیان ہی نہیں جاتا، جیسا کہ پچھلے دنوں ایک رباعی بلاگ پر لکھنی تھی لیکن خواہ مخواہ اسکے آغاز میں ایک پیوند لگا دیا، بلاگ تو بلاگ اردو محفل پر بھی چند ایک احباب کے سوا سبھی نے رباعی کی بجائے پیوند پر بات کی۔ ڈر رہا ہوں اس بات سے کہ لکھنا کچھ عروض پر چاہ رہا ہوں اور بات پھر اپنی ایک یاداشت سے شروع کر دی ہے کہیں رباعی والا حشر ہی نہ ہو۔ اس ڈر کی کئی ایک وجوہات ہیں، علمِ عروض دراصل ایک 'ہوا' ہے جس سے عام قاری تو بدکتا ہی ہے اچھے خاصے شاعر بھی بدکتے ہیں، نہ جانے کیوں۔
 
 
دراصل شعر کہنے کا عمل تین حصوں پر مشتمل ہے، شعر کہنا، شعر بنانا اور شعر توڑنا اور انکی ترتیب اس ترتیب سے بالکل الٹ ہے جس ترتیب سے میں نے انہیں لکھا ہے، اور وجہ یہ کہ ہر شاعر فوری طور پر شعر کہنے پر پہنچتا ہے اور بے وزن شعر کہہ کر خواہ مخواہ تنقید کا سامنا کرتا ہے، حالانکہ یہ سارا عمل، ایک شاعر کیلیے، شعر توڑنے سے شروع ہوتا ہے، جب کسی کو شعر توڑنا آ جاتا ہے تو ایک درمیانی عرصہ آتا ہے جس میں وہ شعر 'بناتا' ہے اور اسی کو مشقِ سخن کہا جاتا ہے اور جب کسی شاعر کو شعر کہنے میں درک حاصل ہو جاتا ہے تو پھر وہ جو شاعری کرتا ہے اسی کو صحیح معنوں میں 'شاعری' کہا جاتا ہے پھر اسکے ذہن میں شعر کا وزن نہیں ہوتا بلکہ خیال آفرینی ہوتی ہے۔
 
 
اب شعر توڑنا جسے علمِ عروض کی اصطلاح میں تقطیع کرنا کہا جاتا ہے، اور تقطیع کا مطلب بذاتِ خود قطع کرنا، پارہ پارہ کرنا، ٹکڑے کرنا ہے، وہی عروض کی کلید ہے، کنجی ہے، اگر کسی کو شعر توڑنا یا تقطیع کرنا آ گیا تو یوں سمجھیں کہ اسے شعر بنانا بھی آ گیا اور بنانے کے بعد یقیناً اگلا مرحلہ شعر کہنا بہت دور نہیں ہے۔
 
 
لیکن تقطیع پر لکھنے سے پہلے مجھے بہتر معلوم ہو رہا ہے کہ علمِ عروض پر بھی کچھ عرض کر دوں کہ عروض ہے کیا اور یہ کیوں ضروری ہے۔ شاعری کی ابتدا بہت پرانی ہے شاید اتنی ہی پرانی جتنی بولنے کی یا تحریر کی لیکن علم عروض کی تاریخ پہلی صدی ہجری یعنی کوئی تیرہ چودہ سو سال سے ہے، یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ علمِ عروض سے میری مراد، اس تمام تحریر اور آئندہ تحاریر میں، انشاء اللہ بشرطِ زندگی و فرصت و صحت، عربی و فارسی و اردو علمِ عروض ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں شاعری کو 'جانچنے' کا اپنا ایک طریقہ ہے لیکن عربی، فارسی، اردو، سنسکرت، ہندی، پنجابی، سندھی اور برصغیر کی دیگر زبانوں میں عروض کا 'ہجّائی نظام' ہے یعنی یہ ہجّوں پر مشتمل ہے۔ عروض کی تاریخ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شاعری علمِ عروض کو سامنے رکھ کر نہیں کی جاتی بلکہ علمِ عروض سے صرف شاعری کو جانچا جاتا ہے، ناپا جاتا ہے اور اس علم کی ایجاد سے پہلے جو شاعری تھی اس کو سامنے رکھ کر ہی اس علم کے اصول و ضوابط مقرر کیے گئے تھے، اور اب ان اصولوں پر عمل کرنا گویا شاعروں پر فرض سا ہو گیا ہے۔
 
دنیا کی کسی بھی زبان کا کوئی بھی لفظ، ہجّوں یا جسے انگریزی میں 'سیلیبلز' کہا جاتا ہے، سے مل کر بنتا ہے اور یہی علمِ عروض کی کلید ہے، لفظ حرفوں سے بنتا ہے اور الفاظ کی ایک خاص ترتیب سے بحر بن جاتی ہے اور غزل یا نظم کے ہر شعر میں اس ترتیب کو برقرار رکھنا، بس اتنا سا کام ہے جس سے کوئی بھی کلام موزوں یعنی با وزن یا شاعری کہلواتا ہے۔ اب اس ساری بات میں 'ہجّے' کو مرکزی اہمیت حاصل ہے، ہجّے کو آپ یوں سمجھیں جیسے یہ ایٹم ہے اور اسی بنیاد پر ساری شاعری کی عمارت کھڑی ہے۔
 
ایک وضاحت یہاں ضروری ہے، انیسویں صدی تک عربی، فارسی اور اردو نظامِ عروض متحرک اور ساکن کے گورکھ دھندے پر مشتمل تھا جس میں بے شمار خامیاں تھیں، ان خامیوں کا علمِ عروض کے سب ماہرین کو علم تھا لیکن بجائے انکے دور کرنے کے انہوں نے اس علم کو مزید مشکل اور چیستان بنا دیا۔ تفصیلات کا میں یہاں متحمل نہیں ہو سکتا اور اسٹیفن ہاگنگ کو اس کے پبلشر کی طرف سے کی جانی والی نصیحت یاد ہے کہ 'اے بریف ہسٹری آف ٹائم" میں جتنی بھی مساوات لکھو گے ان میں سے ہر مساوات کتاب کی فروخت کو آدھی کر دے گی سو یہاں روایتی علمِ عروض کے نقائص کی بحث کو چھوڑتا ہوں، لیکن ہمیشہ کی طرح یورپی مستشرقین نے ان نقائص کو نہیں چھوڑا بلکہ علمِ عروض پر تحقیق کر کے ہجّائی یا اشاری نظام متعارف کیا جس سے اس علم کے سارے نقائص دور ہو گئے، ایرانی علماء و فضلاء نے بھی اس پر لبیک کہا بالخصوص ڈاکٹر پرویز ناتل خانلزی نے اپنی کتاب "فارسی عروض کی تنقیدی تحقیق اور اوزانِ غزل کے ارتقاء کا جائزہ" (اردو مترجم بذلِ حق محمود) میں اس پر سیر حاصل بحث کی ہے اور خوشی کی بات ہے کہ اب اردو ماہرینِ عروض بھی اس طرف توجہ کر رہے ہیں اور اپنی کتب میں روایتی نظام کے ساتھ ساتھ ہجائی یا اشاری نظام کو بھی جگہ دیتے ہیں۔ مستشرقین نے علمِ عروض کو، جو سراسر ریاضی کے اصولوں پر مشتمل ہے لیکن اس کو ریاضی کی علامات میں ظاہر نہیں کیا جاتا تھا، ریاضی کی عام علامتوں میں بھی ظاہر کیا اور یہ انکا ایک ایسا احسانِ عظیم ہے کہ جو تا قیامت ہم پر رہے گا کہ اس خاکسار کو اس علم کی کنہ یا کلید انہی علامتوں کی مدد سے سمجھ میں آئی تھی۔
 
 
اس طویل تمہید کے بعد، ہجّوں پر کچھ عرض کرتا ہوں، جیسا کہ اوپر لکھا، ہر لفظ ہجّوں میں توڑا جا سکتا ہے جیسے لفظ 'اسلام'، اس لفظ میں تین ہجّے ہیں، الف زیر سین اس، لام زبر الف لا اور میم ساکن یعنی اس، لا اور م، اسی طرح لفظ 'مسلمان'، اس میں چار ہجّے ہیں، یعنی میم پیش مو سین زبر لام سل، میم الف ما اور نون ساکن یعنی مُ سل ما ن، ان دو مثالوں سے ہمارے سامنے دو طرح کے ہجّے سامنے آ رہے ہیں، اور ہر لفظ انہی دو طرح کے ہجّوں پر مشتمل ہوتا ہے، ایک ہجا وہ ہے جو دو حرفوں پر مشتمل ہوتا ہے اور دوسرا ہجا وہ ہے جو صرف اور صرف ایک حرف پر مشتمل ہے، جیسے اسلام کے اس اور لا میں دو دو حرف ہیں اور اسی طرح مسلمان کے سل اور ما میں یعنی یہ دو حرفی ہجّا ہے جب کہ اسلام کا آخری میم یک حرفی ہجا ہے اسی طرح مسلمان کا مُ اور نون یک حرفی ہجے ہیں۔
 
 
یعنی ہر لفظ میں دو طرح کے ہجے ہوتے ہیں، دو حرفی اور یک حرفی، یقین مانیں کہ اگر کسی قاری کو کسی لفظ میں ہجوں کی پہچان ہو گئی اور یہ علم ہو گیا کہ کون سا ہجا یک حرفی ہے اور کون سا دو حرفی تو یوں سمجھیں کہ علم عروض کا جن آپ کے قبضے میں آ گیا۔ کچھ اور مثالیں دیکھتے ہیں۔
 
 
لفظ 'شاعر' - یعنی شا اور عر یعنی یہ لفظ دو ہجوں پر مشتمل ہے اور دونوں دو حرفی ہیں۔
 
لفظ 'شاعری' یعنی شا عِ ری یعنی یہ لفظ تین ہجوں پر مشتمل ہے جس میں شا اور ری دو حرفی ہجے ہیں اور عِ یک حرفی ہجا ہے۔
 
اب ہم ان مثالوں سے اصول اور انکی تعریف مرتب کرتے ہیں۔
 
 
دو حرفی ہجّا یا ہجّائے بلند - کسی بھی لفظ میں یہ ایک ایسا ہجّا ہوتا ہے جو دو حرفوں پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ دونوں حرف آپس میں کسی حرکت (زیر زبر یا پیش) کے ذریعے ایک دوسرے سے ملے ہوتے ہیں، جیسے دل، کل، غم، دن، شب، جُو، چُن وغیرہ وغیرہ یا لفظ اسلام میں اس اور لا، لفظ مسلمان میں سل اور ما، لفظ وارث میں وا اور رث وغیرہ وغیرہ۔ دوحرفی ہجے کو اصطلاح میں 'ہجّائے بلند' کہا جاتا ہے اور اشاری نظام میں اسے کسی بھی علامت سے ظاہر کیا جا سکتا ہے لیکن ہم اسے علامت '2'  [اس وبسائٹ پر اسے = کے نشان سے ظاہر کیا گیا ہے] سے ظاہر کرتے ہیں۔
 
 
یک حرفی ہجّا یا ہجّائے کوتاہ - کسی بھی لفظ میں اکیلا حرف چاہے وہ ساکن ہو یا متحرک جیسے لفظ اسلام میں ساکن میم یا لفظ مسلمان میں پہلی متحرک میم اور آخری ساکن نون، یا لفظ 'صریر' میں صاد متحرک اور آخری رے ساکن۔ یک حرفی ہجّے کو اصطلاح میں ہجّائے کوتاہ کہا جاتا ہے اور علامت میں اسے '1' [اس وبسائٹ پر اسے - کے نشان سے ظاہر کیا گیا ہے] سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
 
 
 
اب اس تعریف کے بعد چند لفظوں کو پھر دیکھتے ہیں اور یہ واضح کروں کہ ہندسوں کو اردو طرزِ تحریر یعنی دائیں سے بائیں پڑھنا ہے۔
 
اسلام یعنی اس لا م اب اگر اس لفظ کو علامتوں میں ظاہر کریں تو یہ 2 2 1 ہوگا۔
اسی طرح 'مسلمان' یعنی م سل ما ن اور علامتوں میں یہ 1 2 2 1 ہے۔
اسی طرح وارث یعنی وا اور رث یعنی 2 2۔
 
یعنی اگر میں یہ کہوں "پہلا سبق" تو کیا اسے جملے کو علامتوں میں ظاہر کیا جا سکتا ہے، کیوں نہیں یعنی پہلا یعنی پہلا میں دو ہجائے بلند ہیں تو اس کو 22 سے ظاہر کریں اور سبق میں ایک ہجائے کوتاہ اور ایک ہجائے بلند ہے تو اسے 1 2 سے ظاہر کریں گویا
پہلا سبق یعنی 22 21۔
اور اگر یہ کہوں 'سبق پہلا' تو اب اس کی ترتیب ہوگی 21 22۔
اور اگر اب یہ کہوں 'ملا ہم کو' تو اسکی ترتیب کیا ہوگی، مشق کریں، چلیں میں لکھ دیتا ہوں
مِ لا ہم کو یعنی 1 2 2 2۔
اب غور کریں
سبق پہلا
ملا ہم کو
کیا یہ شعر ہے؟ کیوں نہیں، یا شعر ہو نہ ہو وزن میں ضرور ہے کیسے؟ پھر دیکھیں
سبق پہلا
ملا ہم کو
اشاری نظام میں لکھیں
2221
2221
 
جی ہاں، آپ نے صحیح پہچانا دونوں مصرعوں یا جملوں میں ہجائے کوتاہ اور ہجائے بلند ایک ہی ترتیب سے آ رہے ہیں اور یہی شعر کا وزن ہے کہ اس کے دونوں مصرعوں میں ہجائے بلند کے اور ہجائے کوتاہ کی ترتیب ایک جیسی ہے۔ یعنی اب ہم وزن کی تعریف کچھ اسطرح سے کر سکتے ہیں کہ ایک شعر کے دونوں مصرعوں میں اگر ہجائے بلند اور ہجائے کوتاہ کی ترتیب ایک جیسی ہو یعنی ہجائے بلند کے مقابل ہجائے بلند اور ہجائے کوتاہ کے مقابل ہجائے کوتاہ تو اس کو شعر کا وزن کہیں گے۔
 
پھر دیکھیں
 
سبق پہلا
ملا ہم کو
کہا ہم نے
نوازش ہے
مشق کے طور پر ان کو علامتوں میں لکھنے کی کوشش کریں، آخری بات یہ کہ یہ وزن یعنی 'سبق پہلا' یا 2221 دراصل مفاعیلن ہے جو کہ عروض کی خاص اصطلاح ہے اور اسی کے الٹ پھیر سے کئی اوزان بنتے ہیں۔ ہم نے اسے 'سبق پہلا' کہا، انشاء اللہ خان انشاء لکھنؤ کی روایت کے عین مطابق اسے 'پری خانم' سے ظاہر کرتے تھے۔ دیکھیئے، مَفَاعیلُن یعنی مَ فا عی لُن یعنی 1 2 2 2 یعنی اگر صرف مفاعیلن کے وزن پر کچھ کلام کہا جائے اور ہر مصرعے میں یہی وزن ہو تو آپ کے 'شاہکار' کو کوئی 'عروضیا' یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ بے وزن ہے۔
 
 
یہاں پر اس تحریر کو چھوڑتا ہوں اس امید پر کہ انشاءاللہ گاہے گاہے اس پر لکھتا رہونگا۔ مجھے افضل صاحب کی فرمائش یاد ہے جس میں نے انہوں نے کہا تھا کہ 'مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام' کی کچھ تقطیع لکھوں لیکن اس تحریر سے پہلے یہ تقطیع ان کیلیے بے معنی ہوتی، انشاءاللہ آئندہ اس نعت کی تقطیع لکھنے کی کوشش کرونگا۔