ہم نے درد جھیلے ہیں
آپ دل سے کھیلے ہیں
ہم نے درد جھیلے ہیں
زندگی کے مصرعے
ہونٹ دو اکیلے ہیں
اب ٹھہر بھی عزرَئیل
دو ہی دن تو کھیلے ہیں
دور ہو کہ دل میں اب
اور بھی جھمیلے ہیں
رہ کٹھن اگرچہ ہے
آگے میلے ٹھیلے ہیں
خلد کے مکاں کا دام
عشق کے دو دھیلے ہیں
تارے ہم سے گویا ہیں
کیسے ہم اکیلے ہیں​
اشعار کی تقطیع
تبصرے