جوہری کا تو متاعِ جہاں مطلوب ہوا
جوہری کا تو متاعِ جہاں مطلوب ہوا
پر خریدارِ جنوں سرمدِ مجذوب ہوا
چاہِ کنعانِ دلِ من، میں نہیں، یوسفِ من!
دل بہ اندیشہ، مرا، دیدہِ یعقوب ہوا
عشق میں مرنے یہ دے گی نہ ہی جینے دے گی
زیست کا روزِ ازل سے یہی اسلوب ہوا
ہم سے کیا ہوں گے جو پہنے ہوئے پیراہنِ نیست
اپنا جامہ تو یہی ہستیِ معیوب ہوا!
خضر نے اس میں ملا دی نہ کہیں آبِ حیات
کاسۂ زہر، ہر اک، ساغرِ مشروب ہوا
داستاں سن کے ہوئے کوہ و فلک گریہ کناں
وہ بتِ سنگ کسی طور نہ مرعوب ہوا
طفلِ شش ماہ، لبِ خشک، چلا دنیا سے
خونِ اصغر سے رخِ شاہ پہ مرطوب ہوا
کیا ہوئی بزمِ جہاں میں تری خاطر داری
حیف اب تک نہ مگر ایک کا محبوب ہوا
ایک محشر سا بپا شانؔ کے سینے میں ہے
دہر و آخر کا بیاں آج بہت خوب ہوا
اشعار کی تقطیع
تبصرے