میری شاعری

آپ کی شائع شدہ شاعری

اس سیکشن میں اپنی شاعری کیسے شائع کریں؟

#موزوں غزل

7 دسمبر


ہے زندگی کچھ ایسے ہی دہرے عذاب میں
جیسے کہ پھول ہو کوئی رکھا کتاب میں
اپنے ہوئے تو ہو گئے ظاہر عجیب وہ
بیگانے جب تلک رہے تھے اک حجاب میں
مزید دکھائیں
#موزوں دو اشعار

7 دسمبر


ہے زندگی کچھ ایسے ہی دہرے عذاب میں
جیسے کہ پھول ہو کوئی رکھا کتاب میں
اپنے ہوئے تو ہو گئے ظاہر عجیب وہ
بیگانے جب تلک رہے تھے اک حجاب میں
#موزوں نہیں آتا

7 دسمبر


مجھے درد اپنا لفظوں میں بتانا بھی نہیں آتا
جو دل میں ہو اسے دل میں چھپانا بھی نہیں آتا
بڑاہی صاف لہجہ ہے جو کہنا ہو سو کہتی ہوں
بناوٹ بھی نہیں آتی بنانا بھی نہیں آتا
مزید دکھائیں
#موزوں ہم جشن منائیں گے

7 دسمبر


ہم گھر کو سجائیں گے بازار سجائیں گے
آقا کی تو آمد پر جھنڈے بھی لگائیں گے
ہم خوشیاں منائیں گے سب دھومیں مچائیں گے
ہم جشنِ ولادت پر محفل بھی سجائیں گے
مزید دکھائیں
#موزوں غزل

7 دسمبر


آہ سردست بے اثر شائد
چاہیے اور چشم تر شائد
آخری شمع بھی جلا ڈالو
بعد اس کے ہی ہو سحر شائد
مزید دکھائیں
#موزوں کاش جان لیتا وہ

7 دسمبر


کاش جان جاتا وہ
میرے دل کی سب باتیں
تلخی میرے لہجے کی
ہجر کی مشقت تھی
مزید دکھائیں
#موزوں ٹھہرو

7 دسمبر


مقابل یا پسِ دیوار ٹھہرو
کبھی تو صاحبِ کردار ٹھہرو
ہمارے حال سے غافل نہیں تو
ہمارے درد کا اظہار ٹھہرو
#موزوں دردِ دل

7 دسمبر


دردِ دل کی دوا کرے کوئی
میرے حق میں دعا کرے کوئی
سرخرو اس طرح بھی ہوتے ہیں
خونِ دل کو حنا کرے کوئی
مزید دکھائیں
#موزوں قطعہ

7 دسمبر


اِن اندھیروں میں نئی شمعیں جلانے والا
جاگتے رہنا کہ وہ شخص ہے آنے والا
آسمانوں سے اُتر آیا ہے اِنساں بن کر
چاند تاروں کو زمینوں سے اُگانے والا
#موزوں سب سے جدا

7 دسمبر


تیرا یہ پیار سب سے جدا
عہد و پیما میں تو بس وفا
بس یہی وجہ تو ہے سجو
تیری وکھری ہے سب سے ادا
#موزوں شیشہ اور پتھر

6 دسمبر


گر شیش محل والا کوئی فردِ بشر ہے
پتھر کے برسنے کا بھی ہر دم اسے ڈر ہے
پتھر کے مکاں والا تو آرام سے سویا
پہنچا بھی اگر شیشہ تو ٹکرا کے وہ ٹوٹا
مزید دکھائیں
#موزوں اب نہ حسرت ہے کہ احسان اٹھایا جائے

6 دسمبر


اب نہ حسرت ہے کہ احسان اٹھایا جائے
خوں کے بدلے میں مرا خون بہایا جائے
ہم تو حیراں ہیں کہ اب قتل یہ کس سر جائے
حاکمِ وقت کسی طور بلایا جائے
مزید دکھائیں
#موزوں طرحى قطع

6 دسمبر


یہ بھی ممکن ہے ترے ہجر کی راتیں ڈس لیں
تو سجائے مرا بستر بھی تو ہو سکتا ہے
یہ بھی ممکن ہے کہ فرقت میں ہی آ جائے قرار
"عشق کا کھیل برابر بھی تو ہو سکتا ہے"
#موزوں غزل

6 دسمبر


آپ کی باتوں میں آئیں گے نہیں
آپ کی محفل سے جائیں گے نہیں
آپ سے پہلو بچائیں گے نہیں
آپ جیسے تلملائیں گے نہیں
مزید دکھائیں
#موزوں دلہن کے لیےآزمودہ نسخہ

6 دسمبر


ہمیشہ آزمائیں آپ ایسے اپنے جوہر کو
کہ سُکھ کا سانس لینے ہی نہ دیں بس اپنے شوہر کو
یہ نسخہ آزمودہ مفت مل جاتا ہے دلہن کو
وہ رکھے باندھ کر پلو سے اس نایاب گوہر کو
#موزوں تازہ غزل

6 دسمبر


ایسا نہ ہو زمانہ صلیبیں نکال لے
اس تیرگی کی کوکھ سے صبحیں نکال لے
پانی کو اختیار ہے معجز نمائی کا
ممکن ہے پتھروں سے بھی راہیں نکال لے
مزید دکھائیں
#موزوں دو شعر

6 دسمبر


سکوتِ شام سے فریاد کرتے
بہت بوجھل ہیں تجھ کو یاد کرتے
اگر ہم بھی زمانہ ساز ہوتے
تجھے بھی ساتھ ہی برباد کرتے
#موزوں شاعری

6 دسمبر


کوئی تو بات تھی ان میں تبھی نوازے گئے
شریف جو بھی یہاں تھے سبھی نوازے گئے
تمام عمر رہی ہے ہمیں یہ خوش فہمی
ابھی نوازے گئے ہم، ابھی نوازے گئے