میری شاعری

آپ کی شائع شدہ شاعری

اس سیکشن میں اپنی شاعری کیسے شائع کریں؟

#موزوں رباعی

30 اپریل 2017


نصرت جس کی رہے اسی سے نفرت
اللہ مت دے کوئی ایسی فطرت
گویا اب فطرت کی تحدید نہیں
لیکن دے معبود مجھے نا خصلت
#موزوں غزل

30 اپریل 2017


میں مرتا جارہا ہوں اور ہنستے جارہے ہیں وہ
دلِ دیوانہ کہتا ہے کہ پھنستے جارہے ہیں وہ
مری رفعت مری اپنی جگر کاوی کا ثمرہ ہے
حسد کرتے ہوئے پستی میں گرتے جارہے ہیں وہ
مزید دکھائیں
#موزوں رباعی

30 اپریل 2017


وہ کر نے پر جفا تلے ہیں جیسے
اب یہ رسمِ وفا نبھے گی کیسے
وہ بس جو رکھتے ہیں آئین جدا
لے ڈوبے گا وہی یقیں ہے ویسے
#موزوں رباعی

30 اپریل 2017


وہ جن کا بس ستم جلن ہے منصب
اب ان کے ہی رحم کرم کا مطلب
وہ کرتے بس دایم تخریب جفا
اب ان کا نا رہا وفا کا مذہب
#موزوں تپتا مہر

30 اپریل 2017


گھنے کہر میں ہے مہرے بخت مت پوچھو
دھواں دھواں ہے مری سرگزشت مت پوچھو
فقط غریب گھروندوں پہ ظلم ڈھاتا ہے
ملا ہے جب سے اسے تاج و تخت مت پوچھو
#موزوں جاں تمہیں سمجھنے میں میں نے بھول کی ہے

30 اپریل 2017


جاں تمہیں سمجھنے میں میں نے بھول کی ہے
ہاں تمہیں سمجھنے میں میں نے بھول کی ہے
ہاں میں نے ہی آستین میں پالا ہے سانپ
میں نے ہی تجھے پرکھنے میں بھول کی ہے
مزید دکھائیں
#موزوں دعا کرے کوئی

29 اپریل 2017


دل خفا ہے دعا کرے کوئی
آج آئے خدا کرے کوئی
ٰیوں بہت کچھ ہے پاس کہنے کو
حوصلہ کچھ عطا کرے کوئی
#موزوں غزل - ذکر جب بھی ترا آتا ہے مچل جاتا ہے دل

29 اپریل 2017


ذکر جب بھی ترا آتا ہے مچل جاتا ہے دل
برف کی سل ہی سہی پھر بھی پگھل جاتا ہے دل
عہد کرتا ہے بھلانے کا تجھے روز مگر
شام سے پہلے ہی کمبخت بدل جاتا ہے دل
مزید دکھائیں
#موزوں بندگی

29 اپریل 2017


سحر کا نام زندگی کرلو
اس کے پہلو میں بندگی کرلو
یہ مشقّت ہے چند لمحوں کی
اپنے خالق سے دوستی کرلو
#موزوں بندگی

29 اپریل 2017


سحر کا نام زندگی رکھدو
اس کے پہلو میں بندگی رکھدو
یہ مشقّت ہے چند لمحوں کی
اپنے خالق سے دوستی کرلو
#موزوں رباعی

29 اپریل 2017


سوچا سب موقوف شکایت نا کریں
فرسودہ محذوف حکایت نا کریں
اب ان سے نا ہے کچھ رشتہ اپنا
اب سب غم مفقود رعایت نا کریں
#موزوں رباعی

29 اپریل 2017


اب اپنی ہر بات تو کہنے سے رہے
ان کی تسلیمات بجانے سے رہے
ممکن ہو جتنی وہ تعظیم رہے
بر کف سرسوں ز بس جمانے سے رہے
#موزوں میرے دو اشعار

29 اپریل 2017


ہم نے چہرے پر سجا لی مسکراہٹ اس لیے
رحم دل جو کرب دیکھے گا مِرا مر جائے گا
ہاتھ بے شک حادثے کی ہوگئے شاکر نذر
کام دنیا میں تمھارے سارے ہی کر جائے گا
#موزوں تازہ غزل کے چند اشعار۔

29 اپریل 2017


اب جنوں پھر سے کسی وحشت کی تیاری میں ہے
دیکھ جو نشہ مرے لہجے کی سرشاری میں ہے
جب مقرّر وقت ہے ہر کام کی تکمیل کا
پھر نجانے ہر بشر کیوں تیز رفتاری میں ہے
مزید دکھائیں
#موزوں انٹرنیشنل بزم غزل میں کہی گئی غزل

29 اپریل 2017


جب کرکے عشق نے مجھے ناکام رکھ دیا
اس نے اسی کا نام تو انجام رکھ دیا
جب اس نے بیوفائی کا الزام رکھ دیا
ہم نے بھی لکھ کے آخری پیغام رکھ دیا
مزید دکھائیں
#موزوں گٹھلی کے دام

29 اپریل 2017


سودا یہ فائدے کا کیا اب کے شیخ نے
خوش تیسرے نکاح سے عالی مقام ہیں
بچے بھی ساتھ آٹھ ملے ہیں دلہن کے ساتھ
آموں کے آم ساتھ میں گٹھلی کے دام ہیں
#موزوں میرے دو اشعار

28 اپریل 2017


عمر بھر تعمیر کروا تا رہا لوگوں کے گھر
پھر بھی وہ مزدور اپنا گھر نہ کوئی لے سکا
پیار تیرا زندگی میری ہے اس میں شک نہیں
پیار تیرا دل سے میرے ڈر نہ کوئی لے سکا
#موزوں یہ زندگی نہ چاہوں تجھے دیکھنے کے بعد

28 اپریل 2017


یہ زندگی نہ چاہوں تجھے دیکھنے کے بعد
اک تاج میں بناؤں تجھے دیکھنے کے بعد
تیری نگاہوں میں تو نشہ ہے خمار ہے
کس میکدے کو جاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
مزید دکھائیں