کتاب دیوانِ غالب
متن نسخہ اردو ویب
مدیران سید ذیشان اصغر، محمد اسامہ سرسری، ابن رضا، مہدی نقوی حجاز
کلام صنف
نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا غزل
جراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغِ جگر ہدیہ شعر
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار غزل
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا غزل
ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا رب شعر
دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا غزل
شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلا غزل
دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا غزل
شمارِ سبحہ،" مرغوبِ بتِ مشکل" پسند آیا غزل
دہر میں نقشِ وفا وجہِ تسلی نہ ہوا غزل
ستائش گر ہے زاہد ، اس قدر جس باغِ رضواں کا غزل
نہ ہوگا "یک بیاباں ماندگی" سے ذوق کم میرا غزل
سراپا رہنِ عشق و نا گزیرِ الفتِ ہستی غزل
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا غزل
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا غزل
شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا غزل
نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھا غزل
ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب غزل
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا غزل
شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا غزل
دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا غزل
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا! غزل
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا غزل
درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا غزل
اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گدائے بے سر و پا ہیں شعر
پئے نذرِ کرم تحفہ ہے 'شرمِ نا رسائی' کا غزل
گر نہ ‘اندوہِ شبِ فرقت ‘بیاں ہو جائے گا غزل
درد منت کشِ دوا نہ ہوا غزل
گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا غزل
قطرۂ مے بس کہ حیرت سے نفَس پرور ہوا غزل
جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا غزل
میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں غزل
گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا غزل
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا غزل
یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا غزل
وہ میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا غزل
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا غزل
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا غزل
لب خشک در تشنگی، مردگاں کا غزل
تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھا غزل
شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھا غزل
آئینہ دیکھ، اپنا سا منہ لے کے رہ گئے غزل
ضعفِ جنوں کو وقتِ تپش در بھی دور تھا شعر
فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراں شعر
عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا غزل
رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف! غزل
ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا غزل
سرمۂ مفتِ نظر ہوں مری قیمت یہ ہے قطعہ
غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں قطعہ
جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا غزل
لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی قطعہ
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا غزل
شکوۂ یاراں غبارِ دل میں پنہاں کر دیا شعر
پھر وہ سوئے چمن آتا ہے خدا خیر کرے شعر
اسدؔ! یہ عجز و بے سامانئِ فرعون توَام ہے شعر
1857 نظم
بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا غزل
عیب کا دریافت کرنا، ہے ہنر مندی اسدؔ شعر
شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیرے، دل بے تاب تھا غزل
دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی قطعہ
پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شراب غزل
افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے قطعہ
رہا گر کوئی تا قیامت سلامت غزل
آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست غزل
غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں غزل
مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ شعر
گلشن میں بندوبست بہ رنگِ دگر ہے آج غزل
معزولئ تپش ہوئی افرازِ انتظار شعر
لو ہم مریضِ عشق کے بیمار دار ہیں شعر
نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ غزل
نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ غزل
حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد غزل
ہلاکِ بے خبری نغمۂ وجود و عدم شعر
تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے شعر
بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوار غزل
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر غزل
کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر غزل
لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر غزل
ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور غزل
صفائے حیرتِ آئینہ ہے سامانِ زنگ آخر قطعہ
جنوں کی دست گیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی غزل
ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں شعر
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور غزل
حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیاز غزل
فارغ مجھے نہ جان کہ مانندِ صبح و مہر قطعہ
کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز! غزل
وسعتِ سعیِ کرم دیکھ کہ سر تا سرِ خاک قطعہ
گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی شعر
نہ گلِ نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز غزل
مُژدہ ، اے ذَوقِ اسیری ! کہ نظر آتا ہے غزل
اے اسدؔ ہم خود اسیرِ رنگ و بوئے باغ ہیں شعر
نہ لیوے گر خسِ جَوہر طراوت سبزۂ خط سے قطعہ
جادۂ رہ خُور کو وقتِ شام ہے تارِ شعاع شعر
رُخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمع غزل
بیمِ رقیب سے نہیں کرتے وداعِ ہوش غزل
زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک غزل
آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تک غزل
دیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایک غزل
گر تُجھ کو ہے یقینِ اجابت ، دُعا نہ مانگ قطعہ
ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل غزل
غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس غزل
بہ نالۂ دلِ دل بستگی فراہم کر شعر
مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دور غزل
از آں جا کہ حسرت کشِ یار ہیں ہم غزل
لوں وام بختِ خفتہ سے یک خوابِ خوش ولے شعر
وہ فراق اور وہ وصال کہاں غزل
کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں غزل
آبرو کیا خاک اُس گُل کی۔ کہ گلشن میں نہیں غزل
عہدے سے مدِح‌ ناز کے باہر نہ آ سکا غزل
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے، چاہو جس وقت غزل
ہم سے کھل جاؤ بوَقتِ مے پرستی ایک دن غزل
ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں غزل
مانعِ دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں غزل
مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں غزل
برشکالِ گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے غزل
عشق تاثیر سے نومید نہیں غزل
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں غزل
ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں غزل
کل کے لئے کر آج نہ خسّت شراب میں غزل
حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں غزل
حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں غزل
ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں غزل
نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیں غزل
دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا غزل
ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر شعر
قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشتِ قیس میں آنا غزل
دل لگا کر لگ گیا اُن کو بھی تنہا بیٹھنا غزل
یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں غزل
نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں غزل
تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں غزل
زمانہ سخت کم آزار ہے، بہ جانِ اسدؔ شعر
دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میں غزل
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں غزل
سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں غزل
دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں غزل
نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے درخُور مرے تن میں غزل
مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں غزل
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟ غزل
غنچۂ نا شگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں غزل
ہم بے خودئ عشق میں کر لیتے ہیں سجدے غزل
اپنا احوالِ دلِ زار کہوں یا نہ کہوں غزل
ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں غزل
جس دن سے کہ ہم خستہ گرفتارِ بلا ہیں غزل
میر کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ غزل
مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل غزل
دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں غزل
حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہو غزل
کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیں غزل
وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو غزل
ابر روتا ہے کہ بزمِ طرب آمادہ کرو شعر
ملی نہ وسعتِ جولان یک جنوں ہم کو شعر
قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو غزل
واں اس کو ہولِ دل ہے تو یاں میں ہوں شرمسار غزل
واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو غزل
لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنی قطعہ
تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو غزل
کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو غزل
گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو غزل
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو غزل
بھولے سے کاش وہ ادھر آئیں تو شام ہو غزل
اے خوش نصیب! کاش قضا کا پیام ہو غزل
شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہ غزل
از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہ شعر
ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہ قطعہ
نہ پوچھ حال اس انداز، اس عتاب کے ساتھ شعر
ہندوستان سایۂ گل پائے تخت تھا قطعہ
صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے غزل
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے غزل
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی غزل
ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے غزل
تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا قطعہ
گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا شعر
غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی غزل
حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی قطعہ
کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے غزل
درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے غزل
سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے غزل
گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے غزل
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے* پوچھو قطعہ
ایک جا حرفِ وفا لکّھا تھا، سو* بھی مٹ گیا غزل
پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے شعر
مری ہستی فضائے حیرت آبادِ تمنّا ہے غزل
رحم کر ظالم کہ کیا بودِ چراغِ کشتہ ہے قطعہ
چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے غزل
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی غزل
ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے غزل
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ شعر
اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے غزل
رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہے غزل
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے غزل
گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے غزل
کار گاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے غزل
اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ شعر
سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے غزل
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی غزل
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے غزل
کوئی دن گر زندگانی اور ہے غزل
کوئی امید بر نہیں آتی غزل
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟ غزل
کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے غزل
پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے غزل
جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی غزل
نکوہش ہے سزا فریادئ بیدادِ دل بر کی غزل
بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے غزل
جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی غزل
ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے غزل
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل نظم
آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے غزل
میں انھیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں غزل
ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہے غزل
پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد غزل
جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے غزل
حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچھا ہے غزل
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی غزل
عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے غزل
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے غزل
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے غزل
غیر لیں محفل میں بوسے جام کے غزل
پھر اس انداز سے بہار آئی نظم
تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے غزل
کب وہ سنتا ہے کہانی میری غزل
نقشِ نازِ بتِ طناز بہ آغوشِ رقیب غزل
گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے غزل
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی غزل
سیماب پشت گرمیِ آئینہ دے ہے ہم قطعہ
ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میں قطعہ
چاہیے اچھوں کو ، جتنا چاہیے غزل
ہر قدم دوریٔ منزل ہے نمایاں مجھ سے غزل
نکتہ چیں ہے ، غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے غزل
چاک کی خواہش ، اگر وحشت بہ عریانی کرے غزل
وہ آ کے ، خواب میں ، تسکینِ اضطراب تو دے غزل
تپش سے میری ، وقفِ کشمکش ، ہر تارِ بستر ہے غزل
خطر ہے رشتۂ الفت رگِ گردن نہ ہو جائے قطعہ
فریاد کی کوئی لے نہیں ہے غزل
نہ پُوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کا قطعہ
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے غزل
کرے ہے بادہ ، ترے لب سے ، کسبِ رنگِ فروغ غزل
کیوں نہ ہو چشمِ بتاں محوِ تغافل ، کیوں نہ ہو؟ غزل
دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے غزل
دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے غزل
یاد ہے شادی میں بھی ، ہنگامۂ "یا رب" ، مجھے غزل
حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے غزل
کبھی نیکی بھی اس کے جی میں ، گر آ جائے ہے ، مجھ سے غزل
زبسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہے غزل
لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے غزل
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے غزل
کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے " غزل
رونے سے اور عشق میں بےباک ہو گئے غزل
نشہ ہا شادابِ رنگ و ساز ہا مستِ طرب قطعہ
عرضِ نازِ شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے غزل
حسنِ بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہے غزل
جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی غزل
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی غزل
بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟ غزل
باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے غزل
روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہر یار کی غزل
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے غزل
کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائیے قطعہ
مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی ہلاک ہے غزل
لبِ عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی شعر
آمدِ سیلابِ طوفانِ صدائے آب ہے قطعہ
ہوں میں بھی تماشائیٔ نیرنگِ تمنا شعر
سیاہی جیسے گر جاوے دمِ تحریر کاغذ پر شعر
ہجومِ نالہ ، حیرت عاجزِ عرضِ یک افغاں ہے غزل
جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہے غزل
خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے غزل
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے غزل
شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے غزل
منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی غزل
غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے غزل
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے غزل
نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئے غزل
آپ نے مَسَّنیَ الضُّرُّ کہا ہے تو سہی غزل
لطفِ نظارۂ قاتل دمِ بسمل آئے غزل
میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی غزل
عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر شعر
اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے قطعہ
زندانِ تحمل ہیں مہمانِ تغافل ہیں شعر
نہ حیرت چشمِ ساقی کی، نہ صحبت دورِ ساغر کی شعر
مستعدِّ قتلِ یک عالم ہے جلادِ فلک شعر
صبا لگا وہ طمانچہ طرف سے بلبل کے شعر
مرثیہ نظم
سلام نظم
خوش ہو اَے بخت کہ ہے آج تِرے سر سہرا غزل
ہم نشیں تارے ہیں، اور چاند شہاب الدیں خاں قطعہ
چرخ تک دھوم ہے، کس دھوم سے آیا سہرا نظم
بیانِ مصنّف (گزارشِ غالبؔ) نظم
گزارشِ غالبؔ قطعہ
گئے وہ دن کہ نا دانستہ غیروں کی وفا داری قطعہ
ہائے ہائے قطعہ
در مدح ڈلی قطعہ
بیسنی روٹی قطعہ
چہار شنبہ آخرِ ماہِ صفر قطعہ
روزہ قطعہ
طائرِ دل قطعہ
شب زُلف و رُخِ عَرَق فِشاں کا غم تھا رباعی
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا رباعی
دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ رباعی
آتشبازی ہے جیسے شغلِ اطفال رباعی
بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفال رباعی
مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل رباعی
ہیں شہ میں صفاتِ ذوالجلالی باہم رباعی
کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیں رباعی
سامانِ خور و خواب کہاں سے لاؤں ؟ رباعی
دل تھا ، کہ جو جانِ دردِ تمہید سہی رباعی
ہے خَلقِ حسد قماش لڑنے کے لئے رباعی
بھیجی ہے جو مجھ کو شاہِ جَمِ جاہ نے دال رباعی
حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے رباعی
اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں ، بلکہ سِوا رباعی
ہم گر چہ بنے سلام کرنے والے رباعی
اِن سیم کے بِیجوں کو کوئی کیا جانے رباعی
رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے رباعی
اے منشئ خیرہ سر سخن ساز نہ ہو رباعی
قطعہ تاریخ قطعہ
قطعہ تاریخ قطعہ
قطعہ تاریخ قطعہ
شریکِ غالبؔ قطعہ
سہل تھا مُسہل ولے یہ سخت مُشکل آ پڑی قطعہ
درباری قطعہ
ایک اہلِ درد نے سنسان جو دیکھا قفس قطعہ
اے جہاں آفریں خدائے کریم قطعہ
گوڑگانویں کی ہے جتنی رعیّت، وہ یک قلم قطعہ
متفرقات نظم
متفرقات نظم
آفت آہنگ ہے کچھ نالۂ بلبل ورنہ غزل
بدتر از ویرانہ ہے فصلِ خزاں میں صحنِ باغ غزل
خزینہ دارِ محبت ہوئی ہوائے چمن غزل
کرم ہی کچھ سببِ لطف و التفات نہیں غزل
جوں شمع ہم اک سوختہ سامانِ وفا ہیں غزل
نالے دل کھول کے دو چار کروں یا نہ کروں غزل
وضعِ نیرنگیِ آفاق نے مارا ہم کو غزل
حسنِ بے پروا گرفتارِ خود آرائی نہ ہو غزل
نہ پوچھ حال اس انداز اس عتاب کے ساتھ غزل
بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے غزل
نسیمِ صبح جب کنعاں میں بوئے پیرَہن لائی غزل
وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئی ہے غزل
یونہی افزائشِ وحشت کے جو ساماں ہوں گے غزل
نمائش پردہ دارِ طرز بیدادِ تغافل ہے غزل
خود جان دے کے روح کو آزاد کیجیے غزل
ہم سے خوبانِ جہاں پہلو تہی کرتے رہے غزل
درد ہو دل میں تو دوا کیجے غزل
سکوت و خامشی اظہارِ حالِ بے زبانی ہے غزل
کس کی برقِ شوخیِ رفتار کا دلدادہ ہے غزل
اس جور و جفا پر بھی بدظن نہیں ہم تجھ سے غزل
دعوۂ عشقِ بتاں سے بہ گلستاں گل و صبح غزل
بسکہ ہیں بدمستِ بشکن بشکنِ میخانہ ہم غزل
صاف ہے ازبسکہ عکسِ گل سے گلزارِ چمن غزل
ضبط سے مطلب بجز وارستگی دیگر نہیں غزل
ہم زباں آیا نظر فکرِ سخن میں تو مجھے غزل
یوں بعدِ ضبطِ اشک پھروں گرد یار کے غزل
بسکہ حیرت سے ز پا افتادہِ زنہار ہے غزل
نیم رنگی جلوہ ہے بزمِ تجلی رازِ دوست غزل
تضمین بر غزل بہادر شاہ ظفر نظم
خط منظوم بنام علائی نظم