یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے​ (غزل)
یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے​
جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے​
پھر وادیِ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے​
پھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے​
محرومِ تماشا کو پھر دیدۂ بینا دے​
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دِکھلا دے​
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل​
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے​
پیدا دلِ ویراں میں پھر شورشِ محشر کر​
اس محملِ خالی کو پھر شاہدِ لیلا دے​
اشعار کی تقطیع
تبصرے