بھول گئے تم جن روزوں ہم گھر پہ بلائے جاتے تھے (غزل)
بھول گئے تم جن روزوں ہم گھر پہ بلائے جاتے تھے
ہوتے تھے کیا کیا کچھ چرچے عیش منائے جاتے تھے
کیا کیا کچھ تھی خاطرداری کیا کیا پیار کی باتیں تھیں
کس کس ڈھب سے چاہ جتا کر ربط بڑھائے جاتے تھے
کرتے تھے تم ان کی خوشامد جو تھے ہمارے محرمِ راز
ہر ہر بات پہ کیا کیا ان کے ناز اٹھائے جاتے تھے
ننگ ہے یا اب نام سے ایسا جہاں لکھا ہو مٹوا دو
یا پڑھنے کو جرات ہی کے شعر لکھائے جاتے تھے
اشعار کی تقطیع
تبصرے