حسرتِ جلوہِ دیدار لئے پھرتی ہے (غزل)
حسرتِ جلوہِ دیدار لئے پھرتی ہے
پیشِ روزن پسِ دیوار لئے پھرتی ہے
مالِ مفلس مجھے سمجھا ہے جنوں نے شاید
وحشتِ دل سرِ بازار لئے پھرتی ہے
کعبہ و دیر میں وہ خانہ بر انداز کہاں
گردشِ کافر و دیں دار لئے پھرتی ہے
کسی صورت سے نہیں جاں کو قرار اے آتش
تپشِ دل مجھے ناچار لئے پھرتی ہے
اشعار کی تقطیع
تبصرے