اسے ہم نے بہت ڈھونڈھا نہ پایا (غزل)
اسے ہم نے بہت ڈھونڈھا نہ پایا
اگر پایا تو کھوج اپنا نہ پایا
مقدّر پر ہی گر سود و زیاں ہے
تو ہم نے یاں نہ کچھ کھویا نہ پایا
کہے کیا ہائے زخمِ دل ہمارا
دہن پایا لبِ گویا نہ پایا
نظیر اس کی کہاں عالم میں اے ذوق
کہیں ایسا نہ پائے گا نہ پایا
اشعار کی تقطیع
تبصرے