دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ (رباعی)
دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ
دل رُک رُک کر بند ہو گیا ہے غالبؔ *
واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں
سونا سَوگند ہو گیا ہے غالبؔ
اشعار کی تقطیع
تبصرے