آتشبازی ہے جیسے شغلِ اطفال (رباعی)
آتشبازی ہے جیسے شغلِ اطفال
ہے سوزِ جگر کا بھی اسی طور کا حال
تھا مُوجدِ عشق بھی قیامت کوئی
لڑکوں کے لئے گیا ہے کیا کھیل نکال !
اشعار کی تقطیع
تبصرے