کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیں (رباعی)
کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیں
عُشّاق کی پُرسش سے اُسے عار نہیں
جو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہوگا
کیونکر مانوں کہ اُس میں تلوار نہیں !
اشعار کی تقطیع
تبصرے