اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں ، بلکہ سِوا (رباعی)
اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں ، بلکہ سِوا
اِتنے ہی برس شُمار ہوں ، بلکہ سِوا
ہر سیکڑے کو ایک گرہ فرض کریں
ایسی گرہیں ہزار ہوں ، بلکہ سِوا
اشعار کی تقطیع
تبصرے