انجام کے آغاز کو دیکھا میں نے (رباعی)
انجام کے آغاز کو دیکھا میں نے
ماضی کے ہر انداز کو دیکھا میں نے
کل نام ترا لیا جو بُوئے گُل نے
تا دیر اُس آواز کو دیکھا میں نے
اشعار کی تقطیع
تبصرے