تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے (غزل)
تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے
اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
رہا آباد عالم اہلِ ہمت کے نہ ہونے سے
بھرے ہیں جس قدر جام و سبو ، مے خانہ خالی ہے
اشعار کی تقطیع
تبصرے